ویب ڈیسک: حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان 27ویں آئینی ترمیم پر جاری ڈیڈلاک بالآخر ختم ہوگیا ہے، جس کے بعد مجوزہ بل کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ترمیم سے متعلق مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے تصدیق کی کہ تمام اختلافی نکات پر اتفاقِ رائے کے بعد ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کچھ تکنیکی تبدیلیاں باقی تھیں جو مکمل کرلی گئی ہیں‘‘ اور اب مسودہ پرنٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اس سے قبل سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے چیمبر میں مجوزہ آئینی ترمیم کے حتمی ڈرافٹ پر اہم اجلاس ہوا، جس میں ججز کے تبادلے، مقدمات کی منتقلی اور آرٹیکل 243 سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، شیری رحمان اور نوید قمر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ ذرائع کے مطابق سینیٹر انوشہ رحمان ایوانِ بالا میں نمبرز گیم کو یقینی بنانے کے لیے متحرک رہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان آئینی ترمیم کے دو نکات پر اختلاف تھا، تاہم اب وہ دور کرلیا گیا ہے، اور دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے کے بعد ترمیمی مسودے کو حتمی منظوری کے لیے تیار کرلیا گیا ہے۔