ویب ڈیسک: مودی حکومت کے دور میں بھارت کی سول سوسائٹی مسلسل اور منظم دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جہاں اختلافی آوازوں اور آزاد سماجی اداروں کے لیے کام کرنے کی گنجائش بتدریج محدود ہوتی جا رہی ہے۔
نیتی آیوگ کے درپن پورٹل پر 2.65 لاکھ سے زائد فعال این جی اوز رجسٹرڈ ہیں، جبکہ مجموعی طور پر مزید کئی لاکھ غیر منافع بخش اداروں کی موجودگی کا تخمینہ ہے، جو بھارت کے سول سوسائٹی نیٹ ورک کو دنیا کے بڑے ترین غیر سرکاری شعبوں میں شامل کرتا ہے۔ اس کے باوجود مودی حکومت کے دور میں تقریباً 22,000 تنظیموں کے FCRA لائسنس منسوخ کیے گئے یا ان کی تجدید نہ ہونے دی گئی، جس کے نتیجے میں 2026 کے وسط تک صرف تقریباً 14,400 سے 14,500 فعال FCRA رجسٹرڈ ادارے باقی رہ گئے۔
ناقدین کے مطابق اس کریک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر اقلیتوں، خصوصاً مسیحی برادری کے لیے کام کرنے والی تنظیموں پر پڑا، جن میں Evangelical Fellowship of India، Church’s Auxiliary for Social Action، CNI Synodical Board of Social Services، Indo-Global Social Service Society اور Missionaries of Charity کے خلاف کارروائیاں نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ ادارے بالخصوص غریب، محروم اور کمزور طبقات کے لیے تعلیم، صحت، امداد اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کام کرتے رہے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف اقدامات کو مذہبی اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
مجوزہ Foreign Contribution (Regulation) Amendment Bill 2026 ریاستی کنٹرول کے اس دائرے کو مزید وسیع اور سخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ایک Designated Authority کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ کسی تنظیم کی رجسٹریشن منسوخ ہونے، رضاکارانہ طور پر واپس کیے جانے یا تجدید نہ ہونے کی صورت میں غیر ملکی فنڈنگ سے حاصل کردہ اثاثوں کو تحویل میں لے کر ان کا انتظام سنبھال سکے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ یہ اختیار مذہبی اور فلاحی اداروں سے منسلک املاک پر ریاستی قبضے یا انتظامی کنٹرول کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
امریکی رکنِ کانگریس رائلی مور (Riley Moore) نے ان ترامیم کو “مسیحیوں کے خلاف واضح حملہ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات بھارت اور امریکہ کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران امریکی سفیر کی اپوزیشن کے زیرِ حکومت ریاستوں کے رہنماؤں تلنگانہ کے ریونت ریڈی، کرناٹک کے ڈی کے شیوکمار اور کیرالہ کے وی ڈی ستھیسن سے مسلسل ملاقاتوں نے بھی سیاسی توجہ حاصل کی ہے، اگرچہ ان ملاقاتوں کو باضابطہ طور پر امریکی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون سے جوڑا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں موجود ہیں کہ NDA حکومت FCRA ترامیم کو پارلیمنٹ میں آگے بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے واضح کیا ہے کہ کانگریس اور متحدہ اپوزیشن مجوزہ ترامیم کی بھرپور مخالفت کریں گے، اور انہیں اقلیتوں، مذہبی فلاحی اداروں اور آزاد سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔