ویب ڈیسک: ترکیہ میں آکن گرلگ کی بطور وزیرِ انصاف تقرری کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ان کی نامزدگی پر سخت احتجاج کیا جس کے دوران ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور بعض اراکین آپس میں الجھ پڑے۔ صورتحال اس قدر کشیدہ ہوگئی کہ ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی دیکھنے میں آئی۔
A brawl broke out in Turkey's parliament as opposition lawmakers tried to block Justice Minister Akin Gurlek from taking his oath following his controversial appointment https://t.co/DXjjAujvCH pic.twitter.com/9QEUF07ZUa
— Reuters (@Reuters) February 11, 2026
اپوزیشن اراکین نے آکن گرلگ کو حلف اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی تقرری متنازع اور جانبدارانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے شخص کو وزارتِ انصاف کا منصب دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ آکن گرلگ اس سے قبل چیف پراسیکیوٹر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی نگرانی کر چکے ہیں، جس کے باعث ان کی نامزدگی پہلے ہی سیاسی حلقوں میں تنقید کا باعث بنی ہوئی تھی۔
دوسری جانب حکومتی اراکین نے صدر رجب طیب اردوان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آکن گرلگ نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور ان کی تقرری آئینی تقاضوں کے مطابق ہے۔
پارلیمنٹ میں پیش آنے والے اس واقعے نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔