ویب ڈیسک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ دھرنوں اور احتجاج کے باعث معیشت کو نقصان پہنچا، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کی صورت حال پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان حکام ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں اور اپنے بین الاقوامی و دوطرفہ وعدے پورے کریں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ شہریوں کا تحفظ اور قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اسی لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں سی ٹی ڈی کو مؤثر کیوں نہیں بنایا گیا اور کئی اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نصب نہیں کیے گئے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ ملک کے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔