ہائبرڈ وار کا نیا محاذ: "بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ" اور اس کے پیچھے چھپی سازش

ہائبرڈ وار کا نیا محاذ:
کیپشن: ہائبرڈ وار کا نیا محاذ: "بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ" اور اس کے پیچھے چھپی سازش

ویب ڈیسک: مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI)، واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، Yigal Carmon (ایک سابق اسرائیلی انٹ آفیسر) نے 12 جون 2025 کو "بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ" کا آغاز کیا اور میر یار بلوچ کو اپنا خصوصی مشیر مقرر کیا۔میر یار بلوچ اپنے پاکستان مخالف طنز اور بھارت نواز بیان بازی کے لیے جانا جاتا ہے۔ جوکہ بی ایل اے کا حامی ہے۔

ظاہر ہے یہ محض اتفاق نہیں۔ یہ پاکستان کے خلاف جاری پانچویں نسل کی جنگ (5th Generation Warfare) کا نیا وار ہے — جہاں دشمن سرحدوں کے بجائے ذہنوں پر حملہ آور ہے۔

 جعلی ترجمان: "میر یار بلوچ" ایک سازشی کردار

یہ کردار درحقیقت ایک مصنوعی شناخت ہے، جسے مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے RAW کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ شخص "بلوچ عوام" کے نمائندے کے روپ میں غلط معلومات اور علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دے رہا ہے، جب کہ بلوچستان کے حقیقی عوام ترقی، امن اور شراکت داری چاہتے ہیں۔

یہ بلوچ عوام کی آواز نہیں بلکہ پاکستان دشمن قوتوں کا پروپیگنڈا ہے۔

تحقیق نہیں، ریکی: MEMRI کی اصلیت کیا ہے؟

MEMRI کا تعارف بظاہر ایک تحقیقی ادارے کے طور پر کیا جاتا ہے، لیکن اس کی بنیاد اسرائیلی خفیہ اداروں کے سابق اہلکاروں نے رکھی، اور اس کی پالیسیاں اکثر پاکستان مخالف اور اسلام دشمن بیانیے پر مبنی ہوتی ہیں۔ "بلوچستان اسٹڈیز" دراصل بلوچستان کو سمجھنے کا نہیں بلکہ بلوچستان کو توڑنے کا منصوبہ ہے۔

اطلاعاتی یلغار کا گٹھ جوڑ

یہ محض ایک شخص یا ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک ہے:

ایک BLA حامی پروپیگنڈا اکاؤنٹ (میر یار بلوچ)
ایک غیر جانب دار تحقیق کا دعویدار ادارہ (MEMRI)
اور پس پردہ موجود دشمن ریاستیں (خصوصاً بھارت)
یہ ڈس انفارمیشن کا گٹھ جوڑ پاکستان کو ہزار زخم دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 حقیقت اور فریب میں فرق

بلوچستان کے اصل عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔ وہ سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، روزگار اور امن کے خواہاں ہیں۔ ان کی آواز وہ نہیں جو ٹوئٹر پر جھوٹے نعروں میں گونجتی ہے، بلکہ وہ ہے جو پاکستان کے اندر جمہوری عمل، شراکت داری اور ترقی میں شامل ہے۔

جھوٹے نجات دہندہ، اصل مسائل کا حل نہیں، بلکہ ان کی شدت بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

"بلوچستان پاکستان کا ہے، اور پاکستان بلوچستان کا"

ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ کیا ہے: پانچویں نسل کی جنگ۔ دشمن اب صرف سرحدوں پر نہیں ہے۔ یہ ہماری سکرین پر ہے، ہمارے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانیوں اور خصوصاً ہمارے بلوچ بھائیوں اور بہنوں کو ان کٹھ پتلیوں اور ان کے آقاؤں کو مسترد کرنا چاہیے۔ ہماری طاقت ہمارے اتحاد اور حقیقی تنقید اور غیر ملکی اسپانسرڈ بغاوت کے درمیان فرق کرنے کی ہماری صلاحیت میں مضمر ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا تعین اس کے اپنے لوگ کریں گے، نہ کہ نئی دہلی سمیت غیر ملکی دارالحکومتوں سے کام کرنے والے انٹیلی جنس فرنٹ۔

Watch Live Public News