ویب ڈیسک :دوستوں کا خیال رکھنے والا امریکی صدر ۔۔۔۔۔ محکمہ انصاف نے نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کے خلاف کرپشن کے تمام مقدمات فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرپشن کیسز کا خاتمہ کی وجہ میئر ایرک ایڈمز اور صدر ٹرمپ کے قریبی تعلقات کو قرار دیا جار ہا ہے ۔
یادرہے امریکی انتخابات میں نیویارک شہر کے میئر ایرک ایڈمز نے ساتھی ڈیموکریٹس کی مخالفت اور تنقید کے باوجود کھل کر صدر ٹرمپ کی حمایت کی۔
محکمہ انصاف نے پیر کو مین ہٹن میں وفاقی استغاثہ سے کہا کہ وہ نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو ختم کریں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی فرد جرم آخری موسم خزاں 2025 کے ڈیموکریٹک میئر کے پرائمری کے بہت قریب آئی تھی اور صدر ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن کے ساتھ تعاون کرنے کی اس کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔ی
یادرہے ایرک ایڈمز، ایک ڈیموکریٹ، دوبارہ نیویارک شہر کے میئر کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔
میئر ایڈمز نے گزشتہ ماہ مسٹر ٹرمپ سے ان کی مارـاےـلاگو اسٹیٹ فلوریڈا میں ان سے ملاقات کی تھی اور ان کی تقریب حلف برداری میں بھی شریک ہوئے تھے جہاں انہیں خصوصی پروٹوکول دیاگیا۔
پیرکو بھیجے گئے ایک میمو میں، محکمہ انصاف کے قائم مقام سربراہ ایمل بوو نے، مین ہٹن کے سابق وفاقی پراسیکیوٹر پر الزام لگایا کہ انہوں نے میئر ایڈمز پر سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ الزامات عائد کیئے۔ تاہم اس کے کوئی شواہدپیش نہیں گئے۔
مسٹر ایڈمز پر رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور غیر قانونی غیر ملکی مہم کے عطیات طلب کرنے کے پانچ الزامات پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
تاہم استغاثہ نے پانچ دیگر ممالک کے ساتھ اس کے لین دین سے متعلق ریکارڈ طلب کیا اور تجویز پیش کی کہ کیس میں توسیع ہو سکتی ہے۔اپنے صدر منتخب ہونے سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مسٹر ایڈمز کو معاف کرنے پر غور کریں گے کیونکہ ان کے خلاف مقدمہ کے سیاسی محرکات تھے۔
الزامات بے بنیاد، مئیر ایڈمز کا دوبارہ الیکشن لڑنے کا اعلان
یاد رہے کہ الزامات کو واپس لیے جانے کے بعد نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز پہلی مرتبہ پبلک کے سامنے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد تھے ،اور انھوں نے کبھی بھی قانون نہیں توڑا ، استغاثہ کے الزامات سچ ثابت نہیں ہو سکے ، میئر نے کہا کہ ہمارے درست اور فوری اقدامات کی وجہ سے ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ، میئر ایرک ایڈمز نیویارک کے دوسرے سیاہ فام میئر ہیں جوکہ دوسری مرتبہ میئر کے الیکشن میں ڈیموکریٹس کے پلیٹ فارم سے حصہ لیں گے ۔
چھ پراسکیوٹرز کے مقدمہ خارج کرنے کے حکم کےخلاف استعفے
لیکن ساسون اور کم از کم چھ دیگر پراسیکیوٹرز نے مقدمہ خارج کرنے کی بجائے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مئیر ایڈمز پر الزامات
64 سالہ مئیر ایڈمز پر ستمبر میں دھوکہ دہی، رشوت ستانی اور غیر ملکیوں سے مہم میں تعاون حاصل کرنے کے پانچ الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے ترکی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اقدامات کرنے کے بدلے ترک حکام سے لگژری سفر اور غیر ملکیوں سے سیاسی تعاون قبول کیا۔
غیر قانونی مہم کے فنڈز کے لیے مئیر ایڈمز نے تجارتی اثر و رسوخ استعمال کیا اور دنیا بھر میں ترک ائیر لائنز پر مفت سفر کرتا تھا۔
ایڈمز نے فرانس، چین، سری لنکا، بھارت، ہنگری اور ترکی کے مفت سفر میں $100,000 وصول کئے۔
حفاظتی خدشات کے باوجود مین ہٹن میں ترکی کے نئے قونصل خانے کی منظوری میں مدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔