اڈانی کا امریکی عدالتی نظام کو چکما دینے کی کوشش: بھارت کی بدعنوانی امریکی انصاف کو بھی آلودہ کر رہی ہے

اڈانی کا امریکی عدالتی نظام کو چکما دینے کی کوشش: بھارت کی بدعنوانی امریکی انصاف کو بھی آلودہ کر رہی ہے
کیپشن: گوتم اڈانی نے فراڈ کیس ختم کرنے کیلئے امریکی محکمہ انصاف کو بڑی پیشکش کر دی

ویب ڈیسک: بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمات ختم ہونے کے امکانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی طرز کی بدعنوانی کس طرح امریکہ کے قانونی اور مالیاتی نظام میں داخل ہو رہی ہے۔

نومبر 2024 میں اڈانی پر 265 ملین ڈالر کی رشوت اسکیم کے ذریعے بھارت میں سولر معاہدے حاصل کرنے اور پھر اربوں ڈالر اکٹھے کرتے وقت امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات لگے تھے، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ معمولی نتائج کے ساتھ بچ نکلیں گے۔ اسی سلسلے میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کے سول معاہدوں کے تحت اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر کو مجموعی طور پر تقریباً 18 ملین ڈالر ادا کرنے ہوں گے، وہ بھی بغیر کسی غلطی کا اعتراف کیے۔

اس سارے معاملے سے اثر و رسوخ کی بو آتی ہے۔ اڈانی نے ایک مشہور وکیل کی خدمات حاصل کیں جس کے روابط صدر ٹرمپ کے حلقوں سے بتائے جاتے ہیں، اپریل میں امریکی محکمہ انصاف (DOJ) سے ملاقاتیں کیں، اور امریکہ میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 15 ہزار ملازمتوں کے وعدے کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا۔ جو چیز بھارت میں معاہدے حاصل کرنے کے لیے عام رشوت ستانی سے شروع ہوئی، وہ اب امریکی اداروں کو بھی متاثر کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پراسیکیوٹر احتساب کے بجائے غیر ملکی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے پر تیار ہیں، جس سے امریکی انصاف طاقتور بھارتی سرمایہ داروں کے لیے سودے بازی کی چیز بنتا جا رہا ہے۔

اگر یہ مقدمات ختم کر دیے جاتے ہیں تو یہ ایک خطرناک مثال قائم ہوگی کہ بھارت کے بدعنوان کاروباری اشرافیہ اپنے طریقے امریکہ لا سکتے ہیں، نرمی خرید سکتے ہیں، اور امریکی مالیاتی منڈیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ معاشی فائدے قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی قیمت پر حاصل نہیں ہونے چاہییں۔

امریکہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ بھارت کے رشوت اور بدعنوانی سے بھرے نظام کی توسیع بن جائے۔ متوقع معاہدہ، جس میں معمولی جرمانے اور غلطی کا اعتراف نہ کرنا شامل ہے، اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ کارپوریٹ طاقت قانونی ذمہ داری پر غالب آ سکتی ہے۔ ایسے نتائج عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا انصاف سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔ اگر مقدمات ختم کر دیے گئے تو یہ ایسی مثال بن سکتی ہے جہاں معاشی دباؤ شفافیت، قانونی عمل، اور قانون کی حکمرانی پر حاوی ہو جائے۔

Watch Live Public News