ویب ڈیسک: نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کی چین کے صدر شی جن پنگ سے مشترکہ ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
چینی صدر نے اجلاس میں شریک تمام وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کو یوریشیائی خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا، جو دنیا کی ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے۔
اس سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ میں منعقدہ ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین پہنچے، جہاں بیجنگ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال چین کی وزارتِ خارجہ کی ایشیائی امور کی نمائندہ مس یو ہونگ، پاکستان کے سفیر خلیل الرحمٰن ہاشمی اور چینی وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
اپنے سرکاری دورے کے دوران نائب وزیرِاعظم تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 2001 میں قائم ہونے والی ایس سی او میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔ یہ تنظیم نہ صرف معاشی تعاون بلکہ علاقائی سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور رابطہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس کا انسدادِ دہشت گردی ڈھانچہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے چین میں روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقات کی ہے، ملاقات میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے آج شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک روس تعلقات کی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی تعاون تجارت، توانائی، زراعت اور دفاع جیسے شعبوں میں مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے روسی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
بعد ازاں اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، ملاقات میں دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا، جب کہ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اسحاق ڈار نے ایرانی عوام اور حکومت سے پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دوہرایا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔