(ویب ڈیسک ) ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور مایوسی کا عکاس ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ بھارت روایتی جنگی صلاحیت میں ناکامی پر نیوکلیئر بلیک میلنگ کا سہارا لے رہا ہے، بھارت کے الزامات آئی اے ای اے جیسے اداروں کے مینڈیٹ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے بارہا واقعات عالمی تشویش کا باعث ہونے چاہئیں، 2023 میں بھارت کے بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر سے جوہری آلات چوری ہوئے ، بھارت میں 10کروڑ ڈالر مالیت کا ریڈیواکٹیو مادہ کالیفورنیم غیر قانونی طور پر برآمد ہوا۔
شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے تین واقعات 2021 میں رپورٹ ہوئے،پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیتیں بھارت کی جارحیت کو روکنے کے لیے کافی ہیں، ہمیں کسی نیوکلئیر بلیک میلنگ کی ضرورت نہیں، جیسا کہ بھارت خود کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری مواد کی چوری نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت کے اندر جوہری مواد کی غیر قانونی مارکیٹ وجود رکھتی ہے، عالمی برادری اور عالمی اٹامک انرجی ایجنسی بھارت میں ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کروائیں، عالمی برادری بھارت کو اپنے جوہری اثاثوں اور تنصیبات کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا پابند کریں۔