(ویب ڈیسک): کراچی کے سفاری پارک میں رکھی گئی نایاب افریقی نسل کی ہتھنی "مدھو بالا" کی اچانک طبیعت بگڑ گئی ہے، جس کے بعد پارک انتظامیہ نے فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں کو طلب کر کے اس کا علاج شروع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہتھنی مدھو بالا شدید کمزوری کے باعث گزشتہ روز اچانک لڑکھڑا کر گر پڑی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹروں کو طلب کیا گیا، جنہوں نے تفصیلی طبی معائنہ کرنے کے بعد اسے باقاعدہ ادویات اور ڈرپس دینا شروع کر دی ہیں۔
ہتھنی کی طبیعت ناساز ہونے کے فوری بعد سفاری پارک انتظامیہ نے سخت حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے عملے سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے ہتھنیوں کے احاطے میں جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
سینئر ڈائریکٹر سفاری اینڈ زو اخلاق احمد کے مطابق بروقت طبی امداد کے بعد مدھو بالا کی حالت اب پہلے سے کافی بہتر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے ٹی بی کے مرض اور اس کے جاری علاج کی وجہ سے مدھو بالا کی ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، جس کے باعث جسمانی کمزوری کے نتیجے میں اس کے گرنے کا واقعہ پیش آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سفاری پارک میں موجود دونوں ہتھنیوں "ملکہ" اور "مدھو بالا" کا ٹی بی کے مرض کا علاج مسلسل جاری ہے۔
واضح رہے کہ سال 2009 میں افریقی نایاب نسل کی 4 ہتھنیاں پاکستان لائی گئی تھیں۔گزشتہ 4 سال کے دوران ان 4 میں سے 2 ہتھنیاں ہلاک ہو چکی ہیں، کراچی چڑیا گھر میں نور جہاں ہتھنی کی موت کے بعد دو سال قبل مدھو بالا کو سفاری پارک منتقل کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل سفاری پارک میں سونیا نامی ہتھنی بھی انتقال کر چکی تھی۔