ویب ڈیسک: امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس درخواست پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے جس میں انہوں نے پیدائشی شہریت ختم کرنے کے لیے اپنی انتظامی پالیسی پر عملدرآمد کی اجازت مانگی ہے۔ عدالت نے اس اہم کیس کی سماعت کے لیے 15 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فی الحال عدالت نے اس پالیسی کو فوری طور پر نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی، تاہم اس کیس کو قانونی، آئینی اور سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
پالیسی کا پس منظر
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکہ میں غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کا عمل بند کیا جانا تھا۔
اس پالیسی کے اعلان کے بعد کئی ریاستوں اور شہری آزادی سے متعلق تنظیموں نے عدالتوں میں درخواستیں دائر کیں، جن پر مختلف عدالتوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو اس پالیسی پر عملدرآمد سے روک دیا۔
قانونی نکتہ: ملک گیر پابندیوں پر سوال
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس مقدمے میں اصل نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ آیا کسی مقامی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی پالیسی پر پورے ملک میں پابندی عائد کرے۔
ماہرین کے مطابق یہ نقطہ صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت اس پالیسی پر عملدرآمد کی اجازت دے دیتی ہے تو اس سے شہریت کے حق پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پیدائشی شہریت اور آئینی مؤقف
امریکا میں ایک صدی سے زائد عرصے سے آئین کی 14ویں ترمیم کو اس انداز میں پڑھا جا رہا ہے کہ جو بھی فرد امریکا میں پیدا ہو، وہ امریکی شہری تصور کیا جاتا ہے، خواہ اس کے والدین کی شہریت کچھ بھی ہو۔
تاہم بعض حلقے اس تشریح سے اختلاف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ حق صرف اُن افراد تک محدود ہونا چاہیے جو امریکی دائرہ اختیار میں مکمل طور پر شامل ہوں، یعنی ان کے والدین قانونی حیثیت رکھتے ہوں۔
ممکنہ اثرات اور آئندہ کی صورتحال
سپریم کورٹ کی جانب سے یہ کیس سننے کا فیصلہ آئندہ امریکی شہریت سے متعلق پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اگر عدالت ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتی ہے، تو یہ فیصلہ مستقبل میں امریکا میں پیدا ہونے والے لاکھوں بچوں کی شہریت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اب نظریں 15 مئی کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت فیصلہ کرے گی کہ یہ معاملہ صرف قانونی پیچیدگی ہے یا واقعی آئینی حدود کو چیلنج کرنے کی کوشش۔