مغربی بنگال میں خون اور افراتفری: بی جے پی کے لیے سیاسی فائدے کا کھیل

مغربی بنگال میں خون اور افراتفری: بی جے پی کے لیے سیاسی فائدے کا کھیل
کیپشن: مغربی بنگال میں خون اور افراتفری: بی جے پی کے لیے سیاسی فائدے کا کھیل

ویب ڈیسک: مغربی بنگال میں حالیہ ہلاکتوں اور سیاسی انتشار نے ایک ایسا منظرنامہ پیدا کر دیا ہے جس کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ بی جے پی سمیٹنے کی پوزیشن میں ہے—چاہے قیمت ٹی ایم سی کے اندر ٹوٹ پھوٹ، کانگریس–ٹی ایم سی تصادم اور مسلم برادری میں بڑھتا خوف ہی کیوں نہ ہو۔

سابق ڈپٹی اسپیکر اور سینئر ٹی ایم سی رہنماآشیش بنرجی کی پراسرار موت نے ممتا بنرجی کی جماعت کے اندر دباؤ، الزام تراشی اور بعد از انتخابی تلخیوں کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ ان سے منسوب خودکشی نوٹ بی جے پی کو ٹی ایم سی کو اندر سے بکھرتی جماعت کے طور پر پیش کرنے کا سیاسی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب، نادیہ میں کانگریس رہنما انیس الرحمٰن اور ان کے بیٹے ابو سفیان کے بہیمانہ قتل نے کانگریس اور ٹی ایم سی کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو کھلی محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ٹی ایم سی سے مبینہ طور پر منسلک افراد کی گرفتاریوں نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا ہے، اور یہی وہ سیاسی تقسیم ہے جس سے بی جے پی براہِ راست فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک مسلم کانگریسی رہنما کا قتل مسلم ووٹ کو بھی خوف، غصے اور سیاسی بے یقینی کی طرف دھکیل سکتا ہے—ایسی تقسیم جو اپوزیشن کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔ یوں بنگال کا بحران بی جے پی کے لیے ایک تیر سے تین شکار بنتا دکھائی دے رہا ہے: ٹی ایم سی کو اندر سے کمزور کرنا، کانگریس اور ٹی ایم سی کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا، اور مسلم ووٹ میں دراڑ پیدا ہونا۔

 تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے کسی سازش کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا؛ تاہم سیاسی طور پر یہ واضح ہے کہ بنگال میں جتنا انتشار بڑھے گا، اتنا ہی فائدہ بی جے پی کو پہنچنے کا امکان ہے۔

Watch Live Public News