ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے درمیان گزشتہ برس کے شدید سیاسی اور ذاتی اختلافات کے بعد ایک بار پھر رابطے بحال ہونے لگے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان تعلقات اگرچہ ماضی جیسی قریبی دوستی کی سطح پر واپس نہیں آئے، تاہم سیاسی معاملات پر رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور مسک اب تقریباً ماہانہ ایک مرتبہ گفتگو کرتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک نے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے بڑے پیمانے پر مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔ مسک کی سیاسی تنظیم ’امریکا پی اے سی‘ ریپبلکن ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک لانے کے لیے 100 سے 120 ملین ڈالر تک خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
ٹرمپ، مسک تعلقات میں بہتری کیسے آئی؟
رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس دونوں کے درمیان شدید اختلافات کے بعد رواں سال رابطوں میں بتدریج بہتری آئی۔ مصالحت کی کوششوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اہم افراد اور دونوں کے قریبی ساتھیوں نے بھی کردار ادا کیا۔ مسک کی جانب سے ریپبلکن پارٹی کی دوبارہ کھل کر حمایت اور وسط مدتی انتخابات کے لیے بھاری مالی معاونت کا اعلان بھی دونوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مسک کی ریپبلکنز کے لیے کروڑوں ڈالر کی معاونت
ایلون مسک 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں پہلے ہی ریپبلکن امیدواروں اور سیاسی گروپس کو کروڑوں ڈالر فراہم کرچکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جون 2026 تک مسک کی انتخابی معاونت کم از کم 90.6 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔تازہ منصوبے کے تحت مسک کی ’امریکا پی اے سی‘ نومبر کے انتخابات سے قبل کم از کم 100 ملین ڈالر، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق 120 ملین ڈالر تک، ریپبلکن ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے خرچ کرے گی۔ یہ مہم کم از کم آٹھ اہم ریاستوں میں جاری رہنے کی توقع ہے۔
2024 کے صدارتی انتخابات میں ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی اور ان کی انتخابی مہم کے لیے 250 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد مسک نے وائٹ ہاؤس میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور حکومتی اخراجات میں کمی کی کوششوں سے منسلک رہے۔ تاہم حکومتی پالیسیوں اور سیاسی معاملات پر اختلافات کے باعث دونوں کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔