ویب ڈیسک: بھارت میں مغربی بنگال کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بعد بعض علاقوں میں سڑکوں اور عوامی مقامات کے نام تبدیل کیے جانے کے فیصلوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ہندو قوم پرست (ہندوتوا) بیانیے کو فروغ دینا اور مسلم تاریخی شناخت کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں مسلم شخصیات یا تاریخی حوالوں سے منسوب سڑکوں اور مقامات کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں، جسے وہ تاریخ کی ازسرِنو تشکیل قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مقامات کے نام تبدیل کرنے کا مقصد مقامی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کی بہتر عکاسی کرنا ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانا۔
تنقید کرنے والے حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض بلدیاتی اور انتظامی اقدامات، خصوصاً اراضی اور تعمیرات سے متعلق قوانین، کا اثر مسلم آبادی پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اپنے اقدامات کو قانون کے مطابق قرار دیتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں تاریخی مقامات، سڑکوں اور عوامی عمارتوں کے ناموں کی تبدیلی کا معاملہ گزشتہ چند برسوں سے سیاسی اور سماجی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔