ویب ڈیسک: بی جے پی فاشسٹ جماعت کے سوا تمام سیاسی جماعتیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر متحد ہیں۔
ریاستی حیثیت کی بحالی میں برسوں کی تاخیر کے بعد یہ مطالبہ اب وہ مرکزی نکتہ بن چکا ہے جس کے گرد بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی مختلف سیاسی آوازیں یکجا ہو رہی ہیں۔ تاہم فاشسٹ بی جے پی حکومت اپنے ظالمانہ جبر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے وعدوں سے پھر گئی ہے بلکہ آہنی ہاتھوں سے کشمیری عوام کی امنگوں کو کچلنے میں مصروف ہے۔
فاروق عبداللہ اور نیشنل کانفرنس، کانگریس کی جانب سے حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق سے رابطوں کے ساتھ، ایک ایسے وسیع تر سیاسی محاذ کی عکاسی کرتے ہیں جو حقیقی مذاکرات اور عوامی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ سیاسی اتحاد نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی تنہائی اور جائز عوامی آوازوں کو خاموش کرانے میں اس کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔
میرواعظ عمر فاروق کا گھر بدستور عملاً نظر بندی اور سخت پابندیوں کی زد میں ہے، جو کشمیر کے ممتاز حریت رہنما کی آواز دبانے کی شرمناک کوشش ہے۔ دوسری جانب عمر عبداللہ کو بی جے پی کی جارحانہ قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے، جہاں مبینہ طور پر ارکانِ اسمبلی کو رشوت اور وزارتوں کی پیشکش کے ذریعے توڑنے کے الزامات بے نقاب کرنے پر ان کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
یہ طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ نوآبادیاتی قبضہ ہے۔ آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے سات برس بعد بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے پورے نہیں کیے گئے، سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کیا گیا، اور مسلسل ہراسانی سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کا اصل ایجنڈا آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور کشمیر کو مکمل طور پر زیرِ نگیں لانا ہے۔
عمر عبداللہ کی "دہلی چلو" ریلی اور عوامی سطح پر بھرپور متحرک ہونے کی مہم نے قابض حکمرانوں کو خوفزدہ کر دیا ہے، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کا حوصلہ آج بھی ناقابلِ تسخیر ہے۔
دنیا بھارت کے دوہرے معیار کو دیکھ رہی ہے—کچھ کے لیے جمہوریت اور کشمیریوں کے لیے فوجی محاصرہ۔ تاخیری حربے اور گھناؤنی چالیں اب بند ہونی چاہئیں۔ ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے، ورنہ اس مسلسل بدعہدی پر بھارت کو بڑھتی ہوئی عالمی مذمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کشمیر کبھی سر نہیں جھکائے گا۔