صدر ٹرمپ یوکرین کا نیا نقشہ منظر عام پر لے آئے

صدر ٹرمپ یوکرین کا نیا نقشہ منظر عام پر لے آئے
کیپشن: صدر ٹرمپ یوکرین کا نیا نقشہ منظر عام پر لے آئے

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو یوکرین کا نیا نقشہ پیش کیا ہے جس کے مطابق یوکرین کو اُن علاقوں سے محروم ہونا پڑے گا جن پر روس کا قبضہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں امریکا اور یوکرین کے صدور کی ملاقات ہوئی جس میں فرانس کے صدر، برطانیہ کے وزیراعظم ، یورپی یونین اور نیٹو کے حکام بھی شریک تھے۔ 

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کو یوکرین کا نیا نقشہ پیش کیا جو 20 فیصد چھوٹا تھا۔ نقشہ میں وہ علاقے دکھائے گئے تھے جو اس یوکرین میں روس کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ علاقے گلابی رنگ میں نمایاں کیے گئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر پیوٹن نے امن معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے ڈونباس کے باقی علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی ہم منصب سے ٹیلی فون پر طویل بات چیت کی جس میں صدر پیوٹن نے یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے صدر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران ہی روسی صدر سے رابطہ کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں میں جنگ بندی کے حوالے سے 40 منٹ تک گفتگو ہوئی۔ پیوٹن نے روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست بات چیت کی حمایت کی۔ دونوں صدور کی ملاقات اس ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔ اس حوالے سے انتظامات بھی شروع کر دیئے گئے ہیں۔ مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ امن معاہدہ ہونے کی صورت میں امریکا یوکرین کو سکیورٹی فراہم کرے گا۔

Watch Live Public News