ویب ڈیسک: (علی زیدی) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اس پر جمی ہیں کہ آیا امریکہ اس تنازع میں براہِ راست شریک ہوگا یا نہیں۔ اس سلسلے میں آج جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپریشن روم میں تیسرا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو مشیروں کی ٹیم کی جانب سے نئی انٹیلی جنس بریفنگ دی جائے گی، جس میں ممکنہ خطرات اور عسکری آپشنز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ادھر باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام ایران پر ممکنہ حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اور اس سلسلے میں آئندہ ہفتے کے آغاز میں کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ اطلاعات بلومبرگ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں دی ہیں۔ تاہم، ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔
دوسری جانب، اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں بشمول تہران، اصفہان اور البرز میں اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے شہریوں کو آراک کے قریب واقع بھاری پانی کے نیوکلیئر ری ایکٹر سے دور رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے علاقے کو خالی کرنے کا انتباہ بھی جاری کیا۔ یہ تنبیہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک سیٹلائٹ تصویر کے ساتھ شائع کی گئی، جس میں ری ایکٹر کو سرخ دائرے میں دکھایا گیا ہے۔
گزشتہ جمعے سے شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کی مختلف عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں کئی میزائل لانچنگ سائٹس، ملٹری ہیڈکوارٹرز، اور حساس جوہری مراکز شامل ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 639 افراد جاں بحق اور 1329 زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک ادارے کے مطابق، مرنے والوں میں 263 عام شہری اور 154 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ متعدد جوہری سائنس دانوں اور اعلیٰ ایرانی فوجی افسران کی بھی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
جواباً ایران نے اسرائیل کی طرف بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور آئندہ مزید شدید ردعمل کی دھمکی بھی دی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایران جنگ میں پہل کرنے والا ملک نہیں تھا، لیکن وہ کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو کہ ایران کو "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کیا جائے گا، "احمقانہ" قرار دیا۔