توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعتوں میں کب کیا ہوا؟

توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعتوں میں کب کیا ہوا؟
کیپشن: توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعتوں میں کب کیا ہوا؟

ویب ڈیسک: عدالت کے فیصلے کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ دفعات 2، 5 اور 47 کے تحت دونوں کو مزید 7، 7 سال قید کی الگ الگ سزائیں دی گئیں۔

عدالت نے دونوں ملزمان پر فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید چھ، چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل تقریباً ایک سال تک جاری رہا۔ اس دوران نیب نے 13 جولائی 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا، جہاں وہ 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے۔ بعد ازاں دونوں نے مختلف مراحل پر عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کیں۔

نیب نے 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ٹو ریفرنس دائر کیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نیب ترامیم بحال ہونے پر 9 ستمبر 2024 کو یہ کیس ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔

16 ستمبر 2024 کو اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی پہلی سماعت کرتے ہوئے باقاعدہ ٹرائل کا آغاز کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کی، جس کے بعد انہیں 24 اکتوبر کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔

اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 نومبر 2024 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بھی ضمانت منظور کی۔ 12 دسمبر 2024 کو عدالت کی جانب سے ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

ٹرائل کے دوران مجموعی طور پر 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے اور جرح مکمل کی گئی۔ اہم گواہوں میں سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی اور بانی پی ٹی آئی کے سابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شامل تھے۔

Watch Live Public News