ویب ڈیسک: چینی صدر شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ اور دشمنی نہ رکی تو دنیا دوبارہ “ جنگل کے قانون” کی طرف جا سکتی ہے۔
بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں اور طویل جنگیں عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین کو کمزور کر رہی ہیں۔
چینی صدر نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازع توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شی جن پنگ کا یہ بیان چین کی جانب سے اب تک سامنے آنے والے سخت ترین مؤقف میں شمار کیا جا رہا ہے، جو خطے میں جاری جنگ کے عالمی اثرات پر بیجنگ کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
ملاقات کے دوران چین اور روس نے باہمی تزویراتی تعاون مزید مضبوط بنانے اور “زیادہ متوازن عالمی نظام” کے قیام کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔