ویب ڈیسک: گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث ایک بار پھر خوفناک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس سے کئی دیہات زیرِ آب آگئے اور درجنوں افراد پھنس کر محصور ہوگئے۔ غذر کے علاقے گوپس تالی داس میں گلیشیئر پھٹنے سے دریا کا بہاؤ رک گیا اور پانی ایک جھیل کی شکل اختیار کر گیا ہے جس سے مزید بستیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ کے مطابق سیلاب سے مقامی آبادی کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ذاتی طور پر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچاؤ کے اقدامات کیے جا سکیں۔
ضلعی حکام نے بتایا کہ گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی جس سے دریائے غذر کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا اور قریبی دیہات سیلاب کی زد میں آگئے۔ عطا آباد جھیل جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور گلگت شندور روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی ہے۔ تالی داس نالہ میں دونوں اطراف سے تودے گرنے کے سبب راؤشن گاؤں کے رہائشی محصور ہو گئے۔
ابتدائی طور پر سیلاب میں پھنسے 50 سے زائد افراد کو مقامی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے عملے نے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ بعدازاں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بھی غذر پہنچا جس نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے مزید متاثرہ افراد کو ریسکیو کر لیا۔
وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون کے مطابق غذر میں صورتحال تشویشناک ہے لیکن فی الحال کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے افراد کی مدد کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر ہنگامی بنیادوں پر روانہ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو جلد محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ نے مزید خطرات کے پیش نظر عوام کو بروقت الرٹ جاری کر دیا ہے اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔