پیوٹن کے مبینہ بیٹے کی تصویرنےسوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا

پیوٹن کے مبینہ بیٹے کی تصویرنےسوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا
کیپشن: روسی سوشل میڈیا پر تہلکہ:پیوٹن کے مبینہ بیٹے کی تصویر منظرعام پر

ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کی مبینہ محبوبہ و سابق اولمپئن علینا کابائیوا کے بیٹے کی پہلی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے۔ ان تصاویر کو ایک روسی ٹیلیگرام چینل VChk-OGPU نے لیک کیا، جس نے بچے کو "روس کا سب سے تنہا لڑکا" قرار دیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تصویر میں 10 سالہ ایوان ولادیمیرووچ پیوٹن کو روایتی روسی کوساک لباس میں سنجیدہ انداز میں کیمرے کی جانب گھورتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، وہ زیادہ تر وقت محافظوں، گورننس اور اساتذہ کے ساتھ گزارتا ہے، اور بچوں سے میل جول نہیں رکھتا۔

غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایوان کی پیدائش 2015 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لوگان کے ایک میٹرنٹی کلینک میں ہوئی تھی۔ وہ ڈزنی کارٹونز اور فلموں کا دلدادہ ہے، اور اکثر ان کے کرداروں کا روپ دھارتا ہے — جو روسی صدر کو ناگوار گزرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایوان کی پیدائش پر پیوٹن نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "ہُرا! آخر کار لڑکا!" علینا کابائیوا مبینہ طور پر پیوٹن کی چار بچوں کی ماں ہیں، جن میں دو بیٹے — ایوان اور ولادیمیر جونیئر — اور دو جڑواں بچیاں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، دونوں لڑکے عیش و عشرت میں پل رہے ہیں مگر شدید تنہائی کا شکار ہیں۔ ان کے اردگرد صرف اساتذہ، نگران اور سخت سیکیورٹی موجود رہتی ہے اور وہ مخصوص بکتر بند ٹرینوں، نجی طیاروں اور یاٹس پر سفر کرتے ہیں۔

یوکرین جنگ کے آغاز پر، پیوٹن نے مبینہ طور پر اپنے خاندان کو سوئٹزرلینڈ منتقل کر دیا تاکہ انہیں کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، "علینا اس وقت اپنے بچوں کے ساتھ ایک خفیہ اور محفوظ چیلیٹ میں رہائش پذیر ہیں۔"

ایک اور روسی چینل کے مطابق، علینا کابائیوا ایک بار پھر حاملہ ہیں، اس بار ایک اوربیٹی کی امید کی جارہی ہے۔

علینا کو ماضی میں "روس کی سب سے لچکدار خاتون" کہا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے 2000 کے سڈنی اولمپکس میں کانسی اور 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

یاد رہے، پیوٹن کی دو بیٹیاں — ماریا (37 سالہ) اور کاترینا (35 سالہ) — ان کی سابقہ اہلیہ لیوڈمیلا اوشیریتنا سے ہیں، جو بھی عوامی منظرنامے سے دور رکھی گئی ہیں۔

Watch Live Public News