(ویب ڈیسک ) امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سیکرامنٹو کاؤنٹی میں سوشل میڈیا پر سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر بے گھر اور سڑکوں پر بیٹھے لاچار شہریوں کو ہراساں کرنے والے نو عمر لڑکوں کے گروہ کی لرزہ خیز ویڈیوز سامنے آنے پر انٹرنیٹ صارفین کا پارہ چڑھ گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائرل ہونے والی متعدد ویڈیو کلپس میں ہوڈیز پہنے دو سے تین نوجوان چہرے چھپا کر بے بس شہریوں کو غیر متوقع طور پر نشانہ بناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
سب سے زیادہ وائرل اور تنقید کا نشانہ بننے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک غریب شہری وین کے قریب بیٹھا تھا جسے نوجوان پانی کا برتن دکھاتے ہیں۔ جیسے ہی پیاسا شخص پانی لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے، سنگدل لڑکے پورا پانی اس کے منہ پر پھینک کر قہقہے لگاتے ہوئے بھاگ نکلتے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے چپ اسٹاکٹن نامی متاثرہ شخص نے بتایا کہ وہ ایک اسٹور کے باہر ریڈیو سن رہا تھا کہ ان لڑکوں نے پہلے اسے روکا اور پھر اچانک اس پر حملہ کر کے لاتیں ماریں، جس سے اسے جسمانی چوٹیں آئیں۔
مقامی کاروباری ملازم اینجل میلنڈیز نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ٹولہ انٹرنیٹ پر فالوورز اور "کلاؤٹ" (آن لائن اثر و رسوخ) حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہرت ہی چاہیے تھی تو ان لاچاروں پر تشدد کرنے کے بجائے ان کی مدد کی جاتی۔
سیکرامنٹو کاؤنٹی شیرف آفس کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تمام ویڈیوز سے باخبر ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی متاثرہ شہری کی جانب سے باضابطہ قانونی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل کو 'پرینک' کے بجائے صریحاً جرم اور تشدد قرار دیتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان نام نہاد کانٹینٹ کریٹرز کو فوری طور پر گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔