ویب ڈیسک: سابق بھارتی نائب صدر حامد انصاری نے 18 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ایک بار پھر بھارت میں بڑھتی ہندو دائیں بازو کی فرقہ وارانہ سیاست پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو کا انتباہ دہرایا کہ بھارت کے لیے ’’اصل خطرہ‘‘ کمیونزم نہیں بلکہ ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت ہے۔
انصاری نے Civic Nationalism سے Cultural Nationalism کی جانب تبدیلی پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اکثریت کو مذہبی اکثریت کے طور پر پیش کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کے ریمارکس نے BJP–RSS سے منسلک ہندوتوا سیاست اور بھارتی سیکولرازم پر جاری بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
USCIRF 2026 کے مطابق 2025 میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب ہوئی اور کمیشن نے دوبارہ بھارت کو Country of Particular Concern قرار دینے کی سفارش کی۔ Human Rights Watch 2026: کی رپورٹ کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد صرف 10 دنوں میں کم از کم 64 مسلم مخالف نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ NHRC کے HRW کی جانب سے نقل کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 2025 کے پہلے 8 ماہ میں 113 پولیس حراستی اموات، 1,535 عدالتی حراستی اموات اور 132 مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتیں رپورٹ کی گئی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد جموں و کشمیر میں تقریباً 2,800 افراد گرفتار یا زیرِ حراست کیے گئے۔ ماہرین نے بھارت کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف وارزیوں کو اجگر کیا۔ Canada CSIS 2025 نے بھارت سے منسوب transnational repression سے متعلق خدشات بھی رپورٹ کیے۔
حامد انصاری کے ریمارکس اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کہ یہ تنقید کسی بیرونی حکومت سے نہیں بلکہ بھارت کے اپنے سابق نائب صدر کی جانب سے سامنے آئی ہے—اور اس نے BJP–RSS، ہندوتوا، اقلیتی حقوق اور بھارتی سیکولرازم پر پہلے سے جاری داخلی و بین الاقوامی بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔