ویب ڈیسک: 24 اپریل 2026 کو بھارت کی سپریم کورٹ کے سامنے ایک باضابطہ بیان میں مرکزی حکومت نے تسلیم کیا کہ کم از کم 10 بھارتی شہری یوکرین جنگ میں روسی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
مزید کئی افراد ان تقریباً 26 کیسز میں شامل تھے جنہیں اپنے پیاروں کو کمائی کیلئے بھیجالیکن اس کے بجائے انہیں روس جنگ کے میدان میں جھونک دیا گیا۔
یہ انکشاف بھارت کی غیر ذمہ دارانہ دوہری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جس پر امریکی حکام نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ روس کی جنگی مشین کو فعال طور پر تقویت دے رہا ہے۔
جہاں نئی دہلی اپنے ہلاک شدگان کی اموات پر ڈھونگ رچا رہا ہے، وہیں اس نے مغربی ممالک سے بڑے پیمانے پر فوائد بھی حاصل کیے ہیں۔
بھارت نے جنوری 2026 میں یورپی یونین کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدہ حاصل کیا، جسے عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کا احاطہ کرنے والا قرار دیا گیا۔ اس میں وسیع ٹیرف کمی کے ذریعے بھارتی برآمدات کے لیے یورپی منڈیاں کھول دی گئیں، جن کی مالیت سینکڑوں ارب ڈالر ہے۔
اس معاہدے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین-بھارت سیکیورٹی و دفاعی شراکت داری بھی قائم کی گئی، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، مشترکہ پیداوار کے مواقع، یورپ کے €150 ارب کے SAFE دفاعی پروگرام میں شمولیت، انٹیلیجنس شیئرنگ، اور اربوں ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری اور سپلائی چین انضمام شامل ہیں۔
اسی طرح دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ فوجی مشقیں، اور اقتصادی فوائد امریکہ اور برطانیہ سے بھی حاصل ہو رہے ہیں، جن میں امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر کے وعدے اور گہرے اسٹریٹجک تعلقات شامل ہیں۔
اس کے باوجود بھارت بیک وقت ماسکو کی حمایت بھی کر رہا ہے، جیسا کہ ریسیپروکل ایکسچینج آف لاجسٹکس ایگریمنٹ (RELOS) کے ذریعے، جو 3,000 تک فوجیوں، جنگی جہازوں اور طیاروں کی باہمی تعیناتی کی اجازت دیتا ہے۔
سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد سے بھارت نے 168 ارب ڈالر مالیت کا رعایتی روسی تیل درآمد کیا، جس سے پیوٹن کو اہم مالی وسائل ملے اور یوکرین اور یورپ میں تباہی طول پکڑتی رہی۔
امریکی رہنماؤں، جن میں ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ شخصیات جیسے پیٹر نوارو اور اسٹیفن ملر شامل ہیں، نے کھل کر الزام لگایا کہ بھارت "روس کی جنگ کی مالی معاونت" کر رہا ہے اور "پیوٹن کی جنگی مشین کو تقویت" دے رہا ہے، کیونکہ وہ سستا تیل خرید کر اسے ریفائن کر کے منافع کے ساتھ دوبارہ فروخت کرتا ہے، جس سے یورپ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے اور مغربی پابندیوں کی کوششیں کمزور پڑتی ہیں۔
بھارت کا یہ موقع پرستانہ رویہ جہاں ایک طرف مغربی ممالک سے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے اربوں ڈالر کے فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو یورپ کو غیر مستحکم کرتے ہیں بھارت کی کثیر جہتی پالیسی کو دراصل کھلے عام ذاتی مفاد پر مبنی ظاہر کرتا ہے، جو عالمی سلامتی کی قیمت پر ہے۔