ویب ڈیسک: ٹرمپ انتظامیہ نے نیویارک کے میئر ایریک ایڈمز سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نیویارک میں نافذ قوانین خطرناک مجرموں کو سنگین جرائم کا موقع دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں سابق اٹارنی جنرل پام بوندی نے کہا کہ نیویارک کی مقامی حکومت نے جان بوجھ کر ہزاروں جرائم پیشہ افراد کو رہا کیا تاکہ وہ عام شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
پام بوندی نے مزید کہا کہ اگر شہر کی قیادت اپنے عوام کے تحفظ میں ناکام رہی تو وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑے گی۔
معاون اٹارنی جنرل بریٹ شومیٹ کا کہنا تھا کہ نیویارک طویل عرصے سے وفاقی امیگریشن پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، لیکن اب ان پالیسیوں پر عملدرآمد کو روکا نہیں جا سکتا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ مجرموں کو رعایت دینے کی پالیسی عوامی سلامتی کے لیے خطرناک ہے اور اس کے خلاف وفاقی سطح پر سخت کارروائی کی جائے گی۔