ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات، غیر منظور شدہ مکانات اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جیز، ایس پیز، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ بھی موجود تھے۔
محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں جاری غیر قانونی تعمیرات، خاص طور پر بغیر منظوری تعمیر شدہ مکانات اور ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے ذریعے سیٹلائٹ میپنگ کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تمام غیر قانونی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کی جائے اور بروقت ایکشن لیا جائے۔
محسن نقوی نے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت دی کہ کوئی بھی بااثر فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں، اور دارالحکومت کو بے ہنگم اور غیر قانونی تعمیرات سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں شہریوں کو عالمی معیار کی خدمات کی فراہمی آپ سب کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے،شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھانہ رکھی جائے۔وفاقی دارالحکومت میں پولیس اور انتظامیہ کے امیج کو بہتر بنانا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب شہری خود آپ پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ شہریوں کی سہولت کیلئے متعلقہ افسران نئے انیشیٹو لے کر آئیں، اس پر عمل میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا،مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے پورے عزم سے اس عمل کو قومی جذبے سے آگے بڑھائیں۔
وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول یقینی بنانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ عیدالاضحی کے دنوں میں شہر کی صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے۔