(ویب ڈیسک) سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ ترین عسکری و فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ تینوں برادر اسلامی ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنما مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کے دفاع اور مدد کے عملی طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ایک انتہائی اہم سہ فریقی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام کا مجوزہ ہنگامی اجلاس بلانے کے حتمی انتظامات اور تیاریوں پر تفصیلی مشاورت مکمل کی گئی۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق تینوں وزرائے خارجہ کی یہ نشست ’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے طے شدہ فریم ورک کے تحت ہوئی۔
ملاقات میں معاہدے کے تحت باقاعدہ جنرل سیکرٹریٹ کے قیام، مختلف تکنیکی کمیٹیوں اور خصوصی ورکنگ گروپس کی تشکیل پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دفاعی معاہدے پر فوری عملی نفاذ شروع کرنے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی۔
تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ، شہری آبادیوں اور سعودی عرب کی اہم اقتصادی و صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر اعادہ کیا کہ سعودی عرب کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل دفاع کا قانونی و اصولی حق حاصل ہے، اور پاکستان اور ترکیہ اس دفاعی حق میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔