(ویب ڈیسک )وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں لگی آگ نے جہاں معصوم کلیوں کو جلا کر راکھ کر دیا، وہیں اسپتال کے لان اور راہداریوں میں بیٹھی مائیں اپنے لختِ جگر کی جدائی میں اپنے سر پیٹ رہی ہیں۔
متاثرہ ماں نے انتظامیہ کے دعووں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔متاثرہ والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ”ہمیں کیا پتہ کہ دس بچے جلے ہیں یا بیس بچے غائب ہوئے ہیں؟ کسی والدین کو ان کا بچہ دکھایا ہی نہیں گیا۔ پولیس اور ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ ڈبے میں بچوں کو لے کر گئے ہیں، لیکن ہم میں سے کسی نے اپنے بچے کے ٹکڑے بھی نہیں دیکھے۔ ہم کس بات پر یقین کریں؟ نرسری کا ایک بچہ بھی ہمارے سامنے نہیں لایا گیا۔“
پمز اسپتال آتشزدگی، ورثاء اورعینی شاہدین کے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات#PublicNews #PublicUpdates pic.twitter.com/Tzsa1B8YVs
— Public News (@PublicNews_Com) August 26, 2026
غم سے نڈھال ماں نے اسپتال انتظامیہ پر سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا”گائنی وارڈ، نرسنگ اسٹیشن اور کوریڈورز میں ایک بھی نرس یا ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ این آئی سی یو (NICU) کو باہر سے باقاعدہ تالا لگایا گیا تھا، وہ تالا کیوں لگایا گیا تھا؟ میں خود بھاگ کر این آئی سی یو کی طرف گئی تو دروازہ بند تھا! یہ کوئی اللہ کی قدرت نہیں، یہ ان لوگوں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اگر آگ لگی تھی تو کسی ایک ڈاکٹر یا نرس کو خراش تک کیوں نہیں آئی؟ صرف معصوم پھولوں جیسے بچے ہی کیوں جلے؟“