ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کو نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری نوٹس پر عدالت عالیہ نے نیب کو فوری طور پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے اور ادارے سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت میں اعظم سواتی کی دائر درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی ببنچ نے کی، اعظم سواتی وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب خیبرپختونخوا نے اعظم سواتی کو کوہستان سیکنڈل میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، درخواست گزار کے خلاف 100 سے زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں، نیب کا یہ نوٹس اسی مہم کا حصہ ہے جو پہلے سے درخواست گزار کے خلاف چل رہا ہے۔
اعظم سواتی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کو جو نوٹس جاری ہوا ہے اس میں کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار انکوائری جوائن کریں۔
وکیل نے استدعا کی کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، تحقیقات جوائن کرے، نیب کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔
عدالت نے 16 جولائی تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے نیب خیبرپختونخوا سے جواب طلب کرلیا۔