اہم ٹورنامنٹ کے پہلے روز ہی 22 سنچریاں کیسے بن گئیں؟ سوالات کھڑے ہو گئے

اہم ٹورنامنٹ کے پہلے روز ہی 22 سنچریاں کیسے بن گئیں؟ سوالات کھڑے ہو گئے
کیپشن: اہم ٹورنامنٹ کے پہلے روز ہی 22 سنچریاں کیسے بن گئیں؟ سوالات کھڑے ہو گئے

ویب ڈیسک: کرکٹ میں سنچریاں بنانا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب کسی ٹورنامنٹ کے افتتاحی روز 22 سنچریاں بن جائیں، تو یہ یقیناً ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔

بھارت میں جاری ون ڈے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ وجے ہزارے ٹرافی 2025-26 کے پہلے دن 18 میچز میں 22 سنچریاں بنیں، جن میں ایک ڈبل سنچری بھی شامل ہے۔ یہ ٹورنامنٹ میں ایک دن میں سب سے زیادہ سنچریوں کا نیا ریکارڈ ہے۔

بہار بمقابلہ ارونا چل پردیش کا ریکارڈ ساز میچ
اس میچ میں بہار کی ٹیم نے ارونا چل پردیش کے خلاف 50 اوورز میں 574 رنز بنا کر لسٹ اے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ بہار کے کپتان ثاقب الغنی نے 32 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنائی، جبکہ ویبہو سوریاونشی نے 84 گیندوں پر 190 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

بولرز کی درگت
اس میچ میں ارونا چل پردیش کے بولر میبوم موسو نے 9 اوورز میں 116 رنز دے کر لسٹ اے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز دینے کا ناپسندیدہ ریکارڈ بنایا۔

دیگر اہم ریکارڈز
افتتاحی روز کرناٹک نے 413 رنز کا ہدف حاصل کر کے ایونٹ کی تاریخ میں ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔ اس دن بھارتی کرکٹرز ویرات کوہلی اور روہت شرما نے اپنے اپنے میچز میں سنچریاں اسکور کیں۔

ماہرین کے سوالات
اس غیر معمولی کارکردگی پر کرکٹ ماہرین اور شائقین کرکٹ کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ کیا یہ سنچریاں واقعی بلے بازوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں یا پھر بولرز کی کارکردگی ناقص تھی؟ بعض کا خیال ہے کہ پچز کی حالت نے بھی بیٹنگ کو مدد فراہم کی۔

ماہرین کے مطابق، ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ فرینڈلی پچز بننے سے بولرز کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے، جو مستقبل میں انٹرنیشنل کرکٹ میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

Watch Live Public News