ویب ڈیسک: اُڑی میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے دو بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ دونوں زخمی اہلکار آٹھ راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھتے تھے۔
دھماکہ کشمیر کی انتہائی عسکری لائن آف کنٹرول کے قریب ہوا۔ واقعہ 28 جولائی 2026 کو اُڑی کے کمال کوٹ سیکٹر میں پیش آیا۔ یہ دھماکہ بھارتی سکیورٹی نظام کی سنگین کمزوریاں بے نقاب کرتا ہے۔ مودی حکومت کے آہنی کنٹرول کے دعوے مسلسل کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد معمولاتِ زندگی کا بیانیہ بھی بے نقاب ہو گیا۔ یہ واقعہ بھارت کی مسلسل ناکامیوں کی ایک اور واضح مثال ہے۔
گزشتہ سال اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے واقع سے2026 آج تک شوپیاں، راجوری، اننت ناگ اور بارہمولہ مسلسل جھڑپوں کی زد میں رہے۔ ان واقعات نے دہلی کی کشمیر میں جاری مزاحمت دبانے میں ناکامی آشکار کر دی۔ بھارت کی جارحانہ بیان بازی زمینی ناکامیاں چھپا نہیں سکتی۔ بھارت نے محاصرہ اور تلاشی کی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ قابض افواج کشمیری شہریوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارتی ہیں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری حراست اور اجتماعی سزا بھگت رہے ہیں۔ شہریوں کے گھروں کی مسماری کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ سفاکانہ اقدامات خوف پھیلانے اور مزاحمت کچلنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بھارت کا ظالمانہ قبضہ پورے متنازع خطے میں مزاحمت کو مزید جنم دے رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی تلخ زمینی حقیقت چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ قابض بھارتی فوج مسلسل خوف، دباؤ اور بے یقینی میں مبتلا ہے۔ یہی مسلسل دباؤ فوجیوں میں شدید ذہنی بحران پیدا کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2025 اور 2026 میں ناگروٹہ سے تشویشناک واقعات رپورٹ ہوئے۔ خاندانی جدائی، مسلسل تعیناتی اور ذہنی دباؤ فوجیوں کو توڑ رہے ہیں۔ اخلاقی تھکن بھارتی قابض افواج کی صلاحیت مزید کمزور کر رہی ہے۔ مودی حکومت پروپیگنڈا پھیلاتی ہے جبکہ کشمیر مسلسل لہولہان ہے۔
دوسری جانب بھارتی فوجی نفسیاتی اور اخلاقی طور پر بکھر رہے ہیں۔ بھارت کا جابرانہ قبضہ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ شدید جبر کے باوجود کشمیری مزاحمت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔تاریخ کشمیریوں کے خلاف بھارتی جرائم کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
کیپشن: اُڑی بارودی سرنگ دھماکہ: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے اور سکیورٹی دعووں کی ایک اور ناکامی