کارگل میں بھارتی فتح کا جھوٹا بیانیہ 

 کارگل میں بھارتی فتح کا جھوٹا بیانیہ 
کیپشن:  کارگل میں بھارتی فتح کا جھوٹا بیانیہ 

ویب ڈیسک: 1999 کے موسمِ گرما میں، کارگل، دراس، بٹالک اور وادیٔ مشکوہ کی برف پوش چوٹیوں پر بھارت کی فوجی طاقت بے رحمی سے بے نقاب ہو گئی اور  بھارتی فوج بے بسی کی تصویر بن گئی۔

 کشمیری آزادی پسندوں نے فروری سے خالی کی گئی بھارتی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، 16 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر سرینگر۔لہہ شاہراہ پر غلبہ حاصل کیا اور لداخ و سیاچن تک نئی دہلی کی رسد کی شہ رگ کو جکڑ لیا۔ اپنے وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک کے باوجود غفلت کی نیند سونے والا بھارت، 3 سے 5 مئی کے درمیان چرواہوں کی اطلاعات کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔

اس نے آپریشن وجے کے نام پر 30 ہزار سے زائد فوجیوں، مسلسل توپ خانے اور فضائی طاقت کا  کشمیر میں بے ہیمانہ استعمال کیا۔ اس کے باوجود حملہ در حملہ مضبوط دفاعی مورچوں سے ٹکرا کر ناکام ہوتا رہا۔ جب بھارتی افواج بالآخر 13 جون کو ٹولولنگ اور 4 جولائی کو ٹائیگر ہل تک پہنچیں تو انہیں اس زمین کی قیمت خون کے دریاؤں کی صورت میں چکانا پڑی۔ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا نہایت تباہ کن اور انتہائی درست جواب دیا، جس نے ہر بھارتی پیش قدمی کو قبرستان میں بدل دیا۔

 ناردرن لائٹ انفنٹری کے کرنل شیر خان اس جرات و استقامت کی روشن مثال بنے۔ انہوں نے گلتری اور بٹالک سیکٹرز میں بارہا جوابی حملوں کی قیادت کی، ذاتی طور پر متعدد بھارتی مورچے تباہ کیے اور 5 تا 7 جولائی کے دوران جامِ شہادت نوش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ اسی طرح حوالدار لالک جان نے بٹالک سیکٹر میں بے خوفی سے لڑتے ہوئے تنِ تنہا دشمن کے متعدد حملے پسپا کیے اور کئی دشمنی مورچے تباہ کیے، یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ ان کی بے مثال مزاحمت نے دیگر جانبازوں کے شانہ بشانہ دہلی کی پیش قدمی کرتی فوجی کالموں کو مفلوج کن نقصانات پہنچائے۔

بھارتی پروپیگنڈا 700 سے 4,000 "دشمن" ہلاکتوں کا شور مچاتا رہا، بالکل اسی طرح جیسے بھارت نے آپریشن سندور میں 100 نام نہاد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا، جبکہ اپنے 527 فوجیوں کی ہلاکت اور 1,363 کے زخمی ہونے کا خود اعتراف کیا۔ اس نے آسان فتح اور صرف "شدت پسند" دراندازوں کی من گھڑت کہانیاں گھڑیں، مگر بعد میں دستاویزات اور لاشوں نے ان جھوٹوں کو بے نقاب کر دیا۔ اسٹریٹجک کامیابیاں نمایاں رہیں؛ سرینگر۔لہہ شاہراہ کئی ماہ تک مسلسل خطرے کی زد میں رہی، بھارتی فضائی اثاثوں کو مؤثر چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، اور عالمی توجہ پہلے سے کہیں زیادہ کشمیر پر مرکوز ہو گئی۔

26 جولائی کو، 85 روزہ لڑائی کے اختتام پر، بھارت نے صرف بھاری سفارتی دباؤ کے تحت انخلا کے بعد جھوٹی "فتح" کا اعلان کیا، مگر اس کا پروپیگنڈا اس کی اسٹریٹجک اور اخلاقی شکست کو چھپا نہ سکا۔  کارگل نے ہمیشہ کے لیے نئی دہلی کے غرور، تکبر اور کھوکھلے دعوؤں کا نقاب نوچ کر رکھ دیا۔ چاہے کارگل ہو یا آپریشن سندور بھارت جھوٹے دعوے اور افسانوی کہانیوں سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتاہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی ساکھ خراب کر چکا۔

Watch Live Public News