غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ناگزیر ہے،پاکستان

 غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ناگزیر ہے،پاکستان
کیپشن: غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ناگزیر ہے،پاکستان

ویب ڈیسک:پاکستان نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ناگزیر ہے اور جنگی جرائم و نسل کشی پر اسرائیل کا موثر احتساب ہونا چاہئے۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے وسیع علاقے تباہ ہو چکے ہیں، دسیوں ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور محلّے، ہسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ عالمی کوششوں کے تحت 10 اکتوبر 2025 کو فائر بندی نافذ ہوئی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

یومِ یکجہتیِ فلسطین (29 نومبر) کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ اٹل حمایت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی حمایت پاکستان کی بنیادی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1940 کی قراردادِ لاہور میں بھی فلسطینی عوام سے یکجہتی اور ان کی ریاست کے قیام کی حمایت شامل تھی، جو پاکستان بننے سے سات سال قبل منظور کی گئی تھی۔

وزیراعظم اور صدر دونوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور اسرائیل کے جنگی جرائم پر سخت احتساب کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانا ضروری ہے، اسرائیل کو تمام خلاف ورزیاں روکنا ہوں گی اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہئے۔ انہوں نے غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی توجہ صرف غزہ نہیں بلکہ مغربی کنارے کی سنگین صورتحال پر بھی مرکوز رہنی چاہئے۔

انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور امن کے راستے میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کی دعا کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ میں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم اور صدر نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد، قابلِ عمل، مسلسل جغرافیائی ریاستِ فلسطین کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

Watch Live Public News