ویب ڈیسک: ایران میں پیر کے روز کرنسی ریال کی تاریخی گراوٹ کے بعد مہنگائی اور بدترین معاشی صورتحال کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دباؤ پر ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران اور دیگر بڑے شہروں میں مظاہرین کے سڑکوں پر نکلنے کے بعد محمد رضا فرزین نے منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تہران کے وسطی علاقے سعدی اسٹریٹ اور مرکزی گرانڈ بازار کے قریب شوش کے علاقے میں تاجروں اور دکانداروں نے احتجاج کیا اور متعدد دکانیں بند رکھیں۔
تاریخی طور پر یہ علاقے ایران میں سیاسی تبدیلی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران بھی یہی بازار عوامی تحریک کا مرکز رہے تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق احتجاجی مظاہرے اصفہان، شیراز اور مشہد تک پھیل گئے، جبکہ بعض علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
یہ مظاہرے 2022 کے بعد سب سے بڑے قرار دیے جا رہے ہیں، جب 22 سالہ ماہسا جینا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ایران بھر میں کئی ماہ تک احتجاجی لہر جاری رہی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی تاجروں نے احتجاجاً کاروبار بند رکھا اور دیگر دکانداروں سے بھی شٹر ڈاؤن کی اپیل کی۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِلنا‘ کے مطابق کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، اگرچہ کچھ دکانیں کھلی رہیں۔ ایک روز قبل احتجاج محدود تھے اور صرف تہران کی دو موبائل مارکیٹوں میں حکومتی مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔
ایران کی موجودہ معاشی بدحالی کی بڑی وجہ ریال کی شدید گراوٹ ہے، جو اتوار کے روز 1.42 ملین ریال فی امریکی ڈالر کی سطح تک جا پہنچی تھی، جبکہ پیر کو معمولی بہتری کے بعد کرنسی تقریباً 1.38 ملین ریال فی ڈالر پر آ گئی۔ واضح رہے کہ 2022 میں فرزین کے عہدہ سنبھالنے کے وقت ریال کی قدر تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار فی ڈالر تھی۔
ریال کی تیز گراوٹ کے باعث مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کے سرکاری شماریاتی مرکز کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 42.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ برس کی اسی مدت اور نومبر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 72 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ صحت اور طبی اشیاء کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ گئیں، جسے ناقدین ممکنہ ہائپر انفلیشن کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت پر بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ریال تقریباً 32 ہزار فی ڈالر پر مستحکم تھا، تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے سے انخلا اور پابندیوں کی بحالی کے بعد معاشی صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔
اس کے علاوہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ اور اقوام متحدہ کی جانب سے ستمبر میں جوہری پابندیوں کی دوبارہ بحالی نے بھی معاشی عدم استحکام میں اضافہ کیا، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔