برطانیہ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا

برطانیہ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا
کیپشن: برطانیہ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا

برطانیہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ڈٹ گیا، فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے ہونے والی تمام تنقید کو مسترد کر دیا۔

برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم فلسطین کو تسلیم کر کے حماس کو انعام دینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ فلسطین میں ہونے والی نسل کشی اور مظالم نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان مظالم کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں حکومتی انتظامات میں حماس کی شمولیت کے سخت خلاف ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ اجلاس میں وزراء سے کہا تھا کہ غزہ کی بد حالی اور دو ریاستی حل کی امیدیں دم توڑنے کے باعث اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے ستمبر تک غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے پر قبضہ روکنے اور امن عمل کے آغاز کی سنجیدہ کوششیں نہ کیں تو برطانیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں، اور حماس کو چاہیے کہ تمام مغویوں کو رہا کرے، اسلحہ چھوڑے، جنگ بندی تسلیم کرے، اور غزہ کے انتظام میں کوئی کردار ادا نہ کرے۔

Watch Live Public News