ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امور اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے چین پر ٹیرف میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹیرف میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ چین پر عائد ٹیرف کو 57 سےکم ہو کر47 فیصد کردیا گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی، صدر شی سے ملاقات میں بہت سارے فیصلے کیے گئے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سویابین کی خریداری فوری طور پر شروع ہوجائےگی اور نایاب معدنیات کے معاملات میں مزید رکاوٹیں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور میرے دورہ چین کے بعد چینی صدر امریکا آئیں گے.امریکی صدر نے کہا کہ ہم چینی صدر کے ساتھ یوکرین معاملے پر مل کر کام کرنے جارہے ہیں جبکہ تائیوان کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگرممالک ایٹمی تجربےکررہےہیں تو امریکا کے لیے بھی مناسب ہےکہ یہ تجربے بحال کرے اور اس کے لیے نیوکلیئر ٹیسٹنگ سائٹس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
اس سے قبل ملاقات کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا کہ "آپ سے دوبارہ ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی، امید ہے یہ ملاقات نہایت کامیاب ثابت ہوگی۔" انہوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ امریکا اور چین کے درمیان آج تجارتی معاہدہ طے پا سکتا ہے، کیونکہ "کئی معاملات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے جبکہ چند نکات پر آج پیش رفت متوقع ہے۔"
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ " چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا دوست ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کی تجارتی ٹیموں کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور ترقی کے لیے سازگار ماحول قائم کرنا ضروری ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ " باہمی مفاد کے معاملات پر کھلے دل سے گفتگو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔"
صدر شی نے حالیہ غزہ جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ "اختلافات معمول کی بات ہیں، تاہم ہم تعلقات کی مضبوط بنیاد کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔"
ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے ملاقات کامیاب ہوگی، تاہم انہوں نے اس موقع پر صدر شی کو "سخت گیر مذاکرات کار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ ہمیشہ اچھی بات نہیں ہوتی۔"
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی کے بعد بہتری کی امیدیں دوبارہ جنم لے رہی ہیں۔