سیکیورٹی اداروں کی کارروائی میں مارا جانے والا قاری امجد کون تھا؟

سیکیورٹی اداروں کی کارروائی میں مارا جانے والا قاری امجد کون تھا؟
کیپشن: سیکیورٹی اداروں کی کارروائی میں مارا جانے والا قاری امجد کون تھا؟

ویب ڈیسک: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی (IBO) کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج) کے نائب امیر قاری امجد عرف مفتی حضرت یا مفتی مزاحم کو ہلاک کر دیا۔

ذرائع کے مطابق قاری امجد گزشتہ دو ہفتوں سے باجوڑ کے علاقے میں روپوش تھا، جہاں وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے احکامات پر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

ٹھوس انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن

انٹیلی جنس اداروں نے قاری امجد کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی، اور ایک ہدفی کارروائی کے دوران اسے نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔ اس آپریشن کو پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

قاری امجد کون تھا؟

قاری امجد، جسے مفتی حضرت یا مفتی مزاحم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کالعدم ٹی ٹی پی کی شوریٰ کا اہم رکن اور تنظیم میں مفتی نور ولی محسود کے بعد دوسرا بڑا رہنما تھا۔ وہ نہ صرف تنظیم کی منصوبہ بندی میں پیش پیش رہا بلکہ میدانِ عمل میں بھی سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

امریکا نے 2022 میں قاری امجد کو عالمی دہشت گرد (Specially Designated Global Terrorist) قرار دیا تھا۔

دہشت گرد سرگرمیوں میں کلیدی کردار

قاری امجد خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا میں متعدد خودکش حملوں، بارودی سرنگ دھماکوں اور سرحدی چوکیوں پر حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز تھا۔ وہ تعلیمی اداروں پر حملوں، خصوصاً لڑکیوں کے اسکولوں کو نشانہ بنانے کے لیے بدنام تھا۔ اس نےکالعدم ٹی ٹی پی کے اندر ڈرون اور کوآڈ کاپٹر ٹیمیں بھی تشکیل دیں جو سرحدی چوکیوں پر بم حملوں میں ملوث تھیں۔

تنظیمی ڈھانچے کو شدید نقصان

ذرائع کے مطابق قاری امجد کی ہلاکت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ یہ کارروائی تنظیم کے باجوڑ، سوات اور شمالی وزیرستان کے نیٹ ورکس کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی کو متاثر کرے گی۔

قومی سلامتی کے وژن “عزمِ استحکام” کے تحت کارروائی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں سینٹائزیشن (Sanitization) کارروائیاں جاری ہیں تاکہ باقی بچ جانے والے دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ کارروائی قومی سلامتی کے وژن "عزمِ استحکام" کے تحت جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی پاکستانی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا واضح ثبوت ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ ریاست اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی۔

Watch Live Public News