ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کے طویل شٹ ڈاؤن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’ فلی بسٹر‘ (Filibuster) کا خاتمہ کرے، تاکہ ری پبلکنز حکومتی فنڈنگ بل فوری طور پر منظور کرا سکیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر اپنی ہی ری پبلکن پارٹی کے رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا ہے۔
امریکا میں وفاقی حکومت کو فنڈز کی فراہمی رکنے کے باعث شٹ ڈاؤن کو ایک ماہ سے زائد ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں وفاقی ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں، جب کہ صحت، خوراک اور سماجی بہبود کے کئی پروگرام متاثر ہوئے ہیں۔
شٹ ڈاؤن کی وجہ
یہ بحران اُس وقت شروع ہوا جب اکتوبر کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ری پبلکنز کے پیش کردہ بجٹ بل کی منظوری نہ دی تو بڑے پیمانے پر وفاقی ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا۔
ڈیموکریٹس نے بل میں ترامیم کے بغیر منظوری دینے سے انکار کر دیا، بالخصوص ان ترامیم پر اعتراض کیا جو صحت عامہ کے پروگراموں کی فنڈنگ سے متعلق تھیں۔ نتیجتاً حکومتی امور جزوی طور پر معطل ہو گئے۔
’ فلی بسٹر‘ کیا ہے؟
فلی بسٹر امریکی سینیٹ کا ایک پارلیمانی طریقہ کار ہے جس کے تحت کسی بل پر کارروائی اُس وقت تک روکی جا سکتی ہے جب تک 100 میں سے کم از کم 60 سینیٹرز اس کے حق میں ووٹ نہ دیں۔
یہ اصول امریکی آئین کا حصہ نہیں بلکہ 19ویں صدی میں سینیٹ کے اندرونی ضوابط سے وجود میں آیا۔ ماضی میں اسے طویل تقاریر کے ذریعے قانون سازی روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، تاہم آج کل کسی سینیٹر کے صرف اعلان کرنے سے بھی کارروائی رک جاتی ہے۔
2013 میں ڈیموکریٹس نے عدالتی و انتظامی تقرریوں کے لیے فلی بسٹر ختم کیا تھا، جبکہ 2017 میں ری پبلکنز نے سپریم کورٹ ججز کی تقرری کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا۔ تاہم عام قانون سازی پر فلی بسٹر اب بھی نافذ ہے۔
سینیٹ کی موجودہ صورتحال
شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے ری پبلکنز نے ایک فنڈنگ بل سینیٹ میں پیش کیا، مگر ڈیموکریٹس نے اسے فلی بسٹر کے ذریعے روک دیا۔
سینیٹ میں ری پبلکنز کے پاس 53 نشستیں ہیں، لیکن بل کی منظوری کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار ہیں، یعنی انہیں کچھ ڈیموکریٹس کی حمایت لازمی حاصل کرنا ہوگی۔
ڈیموکریٹس اس کے بدلے ہیلتھ انشورنس سبسڈی میں توسیع چاہتے ہیں، جسے ری پبلکنز مہنگا اور غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے فلی بسٹر کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بل صرف ری پبلکن ووٹوں سے منظور کرایا جا سکے۔
پارٹی کے اندر اختلافات
صدر ٹرمپ کے مؤقف سے ان کی اپنی جماعت کے کئی سینیٹرز متفق نہیں۔
اکثریتی رہنما جان تھون نے کہا کہ “ فلی بسٹر ہی سینیٹ کو سینیٹ بناتا ہے، اور 60 ووٹ کی شرط نے ہمیشہ امریکا کو سیاسی انتہاپسندی سے بچایا ہے۔”
ری پبلکن سینیٹر جان کرٹس نے بھی کہا کہ “ فلی بسٹر ہمیں سمجھوتے پر مجبور کرتا ہے، اقتدار بدلتا رہتا ہے مگر اصول قائم رہنے چاہئیں۔”
ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے تصدیق کی کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے بات کی ہے، مگر یہ معاملہ “سینیٹ کا اختیار” ہے، اس پر وہ کوئی رائے نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ میں ٹیرف پالیسی پر ڈیموکریٹس کی پیش کردہ ایک قرارداد میں چند ری پبلکن ارکان نے بھی حمایت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنی مختلف پالیسیوں خصوصاً ٹیرف، بجٹ اور شٹ ڈاؤن پر نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر صورتحال یہی رہی تو فلی بسٹر اور شٹ ڈاؤن کا بحران صدر ٹرمپ کے لیے آئندہ ہفتوں میں مزید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔