ویب ڈیسک: ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر کے ذریعے لگائے گئے الزام کے حوالے سے ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کا مؤقف آگیا۔
ترجمان نے اپنے بیان میں ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد کے قیدیوں کو گلی سڑی مردہ مرغیوں کا گوشت کھلانے کے الزام کے حوالے سے گردش کرنے والی خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔
اس خبر کے حوالے سے ہوم سیکریٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی ہدایت پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز میاں سالک جلال نے معاملے کی چھان بین کی ہے مگر اس الزام میں کوئی صداقت نظر نہ آئی ہے۔
قیدیوں کے کھانے کیلئے ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد سمیت پنجاب کی تمام جیلوں میں گوشت کی بجائے زندہ مرغیاں سپلائی کی جاتی ہیں، جنھیں میڈیکل آفیسر کی نگرانی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی موجودگی میں ذبح کر کے گوشت تیار کیا جاتا ہے اور اس سارے عمل کی ویڈیو روزانہ کی بنیاد پر انسپکٹوریٹ آف پریزنز بھیجی جاتی ہے۔
اس الزام کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے ناجائز مطالبات کے حصول اور محکمہ کو بدنام کرنے کیلئے محض پراپیگنڈا کیا گیا ہے ، جبکہ اس الزام کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے۔
جعلی خبر بے نقاب، انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہو سکے
محکمہ داخلہ کی ہدایت پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ہیڈکوارٹرز) کی سربراہی میں ہونے والی انکوائری میں سوشل میڈیا پر زیرِ گردش جعلی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق منفی عناصر اور جرائم پیشہ مافیا نے بدنیتی کے تحت محکمے کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جن الزامات کو بنیاد بنا کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مہم چلائی گئی، وہ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی تھیں۔ تفتیش کے دوران کسی بھی الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔
ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز کی انکوائری ٹیم نے تمام متعلقہ فریقین سے بیانات اور شواہد حاصل کیے، جس کے بعد رپورٹ مرتب کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "یہ ایک منظم مہم تھی جس کا مقصد عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا اور محکمہ جاتی کارکردگی پر سوالات اٹھانا تھا۔"
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کی شناخت کی جا رہی ہے جو سوشل میڈیا کو غلط استعمال کر کے محکموں کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ متعلقہ ادارے ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کی سازشوں کا سدباب کیا جا سکے۔
ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کی ویب سائٹ نے خبر دی تھی کہ فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کو گلی سڑی مردہ مرغیاں کھلانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق پانچ دن پرانی مردہ مرغیاں روزانہ کھانے میں استعمال کی جاتی رہیں، جو جیل کے 2200 قیدیوں کی صحت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جیل کے لیے روزانہ ساڑھے پانچ من چکن لایا جاتا تھا۔ لیکن صرف دو من زندہ مرغیاں فراہم کی جاتیں، جبکہ باقی تین من گوشت مردہ اور بدبودار مرغیوں کا ہوتا۔ یہ گوشت نیلے رنگ کے ڈرموں میں موٹر سائیکل کے ذریعے جیل پہنچایا جاتا، جس میں فالتو باقیات بھی شامل ہوتیں۔
اس سنگین معاملے میں جیل کے سات ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سپریٹنڈنٹ، ڈپٹی سپریٹنڈنٹ، سٹور کیپر، ٹھیکیدار اور باورچی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان تمام افراد نے ملی بھگت سے قیدیوں کے لیے خطرناک خوراک فراہم کی۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد سپریٹنڈنٹ فرخ سلطان اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ نوید اسلم کو معطل کر دیا گیا۔ تاہم، ذرائع کے مطابق صرف چند گھنٹوں بعد دونوں افسران کو دوبارہ بحال کر دیا گیا، جس سے احتساب پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بدعنوان ملازمین نے اس مردہ گوشت کی آڑ میں لاکھوں روپے کی کرپشن کی، لیکن تاحال کسی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ قیدیوں کی صحت کو مسلسل خطرے میں چھوڑا جا رہا ہے۔