(ویب ڈیسک) افغانستان میں طالبان رجیم کو اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ سال بعد سب سے منظم مسلح مزاحمت، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔
جنرل سمیع سادات تقریباً پانچ سال کے سقوط کے بعد افغان نیشنل آرمی کی وردی اور سہ رنگی پرچم کے ساتھ منظرِ عام پر آ گئے۔
جنرل سمیع سادات کا کہنا ہے کہ آج صبح 5 بجے کابل وقت کے مطابق افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کو طالبان کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی۔طالبان ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کے ساتھ فوجی کارروائیوں کا پہلا مرحلہ شروع، بعد ازاں مختلف مراحل میں آگے بڑھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کو سیاسی، سفارتی اور عوامی کوششوں کے ساتھ ملا کر افغانستان کی آزادی حاصل کی جائے گی۔تقریباً پانچ برس افغان عوام اور سول سوسائٹی کی پکار عالمی برادری نے نظرانداز کی، طالبان سے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ہماری جنگ آزادی کی جنگ ہے، افغان عوام پانچ برس سے ناقابلِ بیان انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ طالبان کے ساتھ بین الاقوامی دہشت گردی افغانستان واپس آ چکی، قدرتی وسائل لوٹ کر دہشت گرد تنظیموں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
جنرل سمیع سادات نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغان عوام اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے کر طالبان کی جابرانہ حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد کریں۔اندرون و بیرونِ افغانستان تمام افغان شہری سہ رنگی پرچم تلے متحد ہو کر ملک کے مستقبل کی جنگ میں شریک ہوں۔تمام افغان رہنماؤں سے متحد ہو کر طالبان کے خلاف لڑنے، عوام کے لیے وطن واپس آنے کی اپیل کردی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف نہیں، طالبان ہی دہشت گرد گروہوں کو منظم اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ افغان نیشنل آرمی کا حقیقی تسلسل، پیشہ ور اور محبِ وطن افغان جرنیل قیادت کر رہے ہیں۔ غیر ملکی فوج یا اڈے نہیں چاہییں، صرف سیاسی و مادی تعاون درکار، طالبان، القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے لڑیں گے۔ 2004 کے آئین، بین الاقوامی انسانی قانون اور لویہ جرگہ کے تحت آزاد، آئینی افغانستان کی بحالی ہمارا مقصد ہے۔