(ویب ڈیسک)چین کی ایک 24 سالہ نوجوان خاتون، جسے میڈیا میں "متاثرہ اے" کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، معمولی جبڑے کی خرابی درست کروانے کے لیے ووہان یونیورسٹی ڈینٹل اسپتال گئی، مگر سرجری کے بعد اس کا چہرہ شدید طور پر بگڑ گیا۔
چینی میڈیا کے مطابق خاتون نے ڈاکٹروں سے صرف 2 ملی میٹر جبڑے کو پیچھے کرنے (Micro-Correction) کی درخواست کی تھی، لیکن سرجری کے دوران اس کا جبڑا الٹا 13 ملی میٹر آگے کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے چہرے کی ساخت نمایاں طور پر تبدیل ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران ایک دھاتی سوئی دانت کی جڑ میں جا لگی، جبکہ ناک کی درمیانی ہڈی (نیزل سیپٹم) بھی ٹیڑھی ہوگئی، جس کے باعث خاتون کو ناک سے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں صرف 2 ملی میٹر جبڑا پیچھے کیا جانا تھا، وہاں مکمل طور پر الٹا عمل کرتے ہوئے جبڑا 13 ملی میٹر سے زیادہ آگے کر دیا گیا۔ اس کے باوجود سرجری کرنے والے مرکزی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ خاتون کا چہرہ "پہلے سے زیادہ مغربی اور اسٹائلش" نظر آنے لگا ہے۔

متاثرہ خاتون نے اس کاسمیٹک سرجری پر 55 ہزار امریکی ڈالر سے زائد خرچ کیے، تاہم ماہرین کے مطابق اب اس کے جبڑے کو درست کرنے کے لیے کم از کم پانچ سال اور دو لاکھ امریکی ڈالر سے زائد درکار ہوں گے۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاتون کے جبڑے کا معمولی مسئلہ صرف آرتھوڈانٹک علاج (دانتوں کی سیدھ درست کرنے کے علاج) سے حل کیا جا سکتا تھا، اس لیے یہ واقعہ محض طبی غلطی نہیں بلکہ سنگین غفلت کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔
واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعلقہ اسپتال نے سرجری کی پوری رقم واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ صحت کے متعلقہ حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاملہ جلد قانونی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔