ویب ڈیسک: روس کے سابق نائب وزیر دفاع تیمور ایوانوف کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر 13 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ ان پر 48.4 ملین ڈالر کی رشوت لینے کا الزام تھا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق تیمور ایوانوف کو گزشتہ برس اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ گرفتاری کے فوری بعد انہیں ان کے عہدے سے بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے ایوانوف کے ساتھ اُن کے قریبی ساتھی اور ماتحت انتون فلاتوف کو بھی 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
تفتیش کے دوران تیمور ایوانوف نے کئی اہم انکشافات کیے، جس کے نتیجے میں مزید ایک درجن افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تاہم مقدمے کی کارروائی بند کمرے میں ہونے کی وجہ سے تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔
سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل طور پر شفاف تھی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تیمور ایوانوف کو قانونی معاونت فراہم کی گئی۔
دوسری جانب بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ تیمور ایوانوف کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اختلافات کی وجہ سے اس کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔