(ویب ڈیسک) روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر برطانوی ہتھیاروں کے ذریعے حملے جاری رہے تو ماسکو برطانیہ کی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو اور لندن کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں کہا کہ روس پر یوکرینی حملوں میں برطانوی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں ماسکو یوکرین سمیت دنیا کے کسی بھی مقام پر موجود برطانوی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔
#Zakharova: London says it is ready to give Kiev the technology to produce Storm Shadow missiles on its own.
— MFA Russia ???????? (@mfa_russia) August 27, 2026
❗️ We have repeatedly warned: strikes using British weapons could trigger a response against UK military facilities in Ukraine & beyond. pic.twitter.com/EeVRhFDO7p
یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یوکرینی فورسز نے روس کے زیرِ قبضہ علاقے ڈونیٹسک میں حملوں کے دوران برطانوی ساختہ اسٹورم شیڈو کروز میزائل استعمال کیے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم 8 شہری زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ روسی شہریوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی اور ان حملوں میں شریک افراد اور مبینہ اکسانے والوں کو بھی اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
روسی ترجمان نے برطانیہ پر الزام لگایا کہ وہ طویل عرصے سے روس کو نام نہاد ’اسٹریٹجک شکست‘ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے برطانوی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومت کی روس مخالف پالیسی اور اس کے ممکنہ تباہ کن نتائج پر غور کریں۔
دوسری جانب برطانیہ نے حال ہی میں یوکرین کو ایسی خفیہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی منظوری دی ہے جس کے ذریعے یوکرین میں اسٹورم شیڈو کروز میزائل مقامی سطح پر تیار کیے جا سکیں گے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف بھی برطانیہ کو یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں شریک قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی افواج یوکرین میں میزائلوں اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری سے متعلق مقامات کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ماسکو روس کے خلاف حملوں میں برطانوی میزائل فورسز کی براہِ راست شمولیت کو جنگ میں شرکت تصور کر سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔