کیمرے کے سامنے طلاق کی ویڈیو وائرل، سابق اہلیہ کے الزامات پر ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کا ردعمل

کیمرے کے سامنے طلاق کی ویڈیو وائرل، سابق اہلیہ کے الزامات پر ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کا ردعمل
کیپشن: کیمرے کے سامنے طلاق کی ویڈیو وائرل، سابق اہلیہ کے الزامات پر ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کا ردعمل

ویب ڈیسک: پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی نے اپنی سابق اہلیہ کی جانب سے عائد کیے گئے جسمانی تشدد اور دھمکیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نہ کبھی تشدد کیا اور نہ ہی کسی قسم کی دھمکی دی۔

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں علی حیدرآبادی اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کی سابق اہلیہ نے الزام لگایا تھا کہ علی حیدرآبادی نے ان پر تشدد کیا اور ان کی انگلی فریکچر کر دی۔

ویڈیو بیان میں علی حیدرآبادی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو خاندانی تنازع سمجھتے ہوئے خاموش رہنا چاہتے تھے، تاہم الزامات کے بعد وضاحت دینا ضروری ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وائرل ویڈیو میں کہیں بھی جسمانی تشدد نظر نہیں آتا اور انہوں نے یہ ریکارڈنگ مستقبل میں کسی ممکنہ جھوٹے دعوے یا بلیک میلنگ سے بچاؤ کے لیے کی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو کے اختتام پر ان کا موبائل فون لینے کی کوشش کی گئی، جبکہ ویڈیو شروع ہونے سے قبل ہی ان کا سامان پیک کر دیا گیا تھا اور انہیں گھر چھوڑنے کے لیے کہا جا چکا تھا۔

علی حیدرآبادی کے مطابق وہ سابق اہلیہ کے گھر باہمی رضامندی سے رہ رہے تھے اور رہائش کی متبادل جگہ کا انتظام بھی کیا گیا، تاہم وہاں منتقل ہونے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ازدواجی زندگی میں اختلافات ضرور تھے، لیکن انہوں نے ہمیشہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اگر کسی بھی متعلقہ ادارے نے طلب کیا تو اپنے مؤقف کے حق میں تمام دستیاب شواہد پیش کریں گے۔

تاحال علی حیدرآبادی کی سابق اہلیہ کی جانب سے ان کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

Watch Live Public News