ویب ڈیسک: قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کے تحت تیار کیے گئے نئے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے۔ ان قواعد کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی، جس کے بعد انہیں سرکاری گزٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے قواعد و ضوابط توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں، جن کا اطلاق تمام عوامی عہدیداروں اور سرکاری وفود کے نجی ارکان پر ہوگا۔ اس کے علاوہ سرکاری خزانے سے تنخواہ، مراعات یا دیگر مالی فوائد حاصل کرنے والے تمام سرکاری عہدیدار بھی ان قواعد کے پابند ہوں گے۔
منظور شدہ قواعد کے مطابق کسی بھی عوامی عہدیدار کو توشہ خانہ سے تحفہ حاصل کرنے یا خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ انہیں ملنے والا ہر تحفہ 30 روز کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔
قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر تحفہ جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ عہدیدار پر تحفے کی مارکیٹ قیمت کے پانچ گنا تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اگر خلاف ورزی کسی سرکاری ملازم کی جانب سے کی گئی تو جرمانے کے ساتھ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
نئے ضوابط کے تحت توشہ خانہ میں موجود تمام موجودہ اور آئندہ موصول ہونے والے تحائف کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ملک کے پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔
وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے بعد یہ قواعد باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو جائیں گے۔