بھارت کی جانب سے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کی بحالی نے نیپال کیساتھ سفارتی کشیدگی کو جنم دیدیا

بھارت کی جانب سے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کی بحالی نے نیپال کیساتھ سفارتی کشیدگی کو جنم دیدیا
کیپشن: بھارت کی جانب سے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کی بحالی نے نیپال کیساتھ سفارتی کشیدگی کو جنم دیدیا

ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کی بحالی نے نیپال کیساتھ سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا۔

بھارت کی جانب سے لیپولیکھ کے راستے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کے اعلان پر نیپال نے سخت سفارتی ردعمل دیا ہے، جو اس علاقے کو 1816 کے سگاؤلی معاہدے کے تحت اپنی سرزمین قرار دیتا ہے۔ کھٹمنڈو نے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے اس اقدام کو یکطرفہ اور اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ نیپال نے واضح کیا کہ لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی، دریائے مہاکالی کے مشرق میں واقع، 1816 کے سگاؤلی معاہدے کے تحت نیپال کے اٹوٹ حصے ہیں۔

اہم نکات
بھارت نے کیلاش مانسرور یاترا 2026 کا شیڈول جاری کیا ہے جو جون سے اگست تک جاری رہے گی۔ یہ یاترا وزارتِ خارجہ بھارت کے زیر انتظام ہوگی جس میں تقریباً 500 یاتری 10 گروپس کی صورت میں اتراکھنڈ کے راستے سفر کریں گے۔ یاتری لیپولیکھ پاس سے گزر کر تبت میں داخل ہوں گے۔ نیپال کی رضامندی کے بغیر اس راستے کو فعال کرنا متنازعہ علاقے میں واضح یکطرفہ اقدام ہے جو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
یاترا اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے ذریعے بھارت عملاً اس علاقے پر انتظامی کنٹرول کو معمول بنانے کی کوشش کر رہا ہے جسے نیپال اپنی خودمختار سرزمین قرار دیتا ہے۔

نیپال کا مؤقف 1816 کے سگاؤلی معاہدے پر مبنی ہے جس کے مطابق لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حدود کا حصہ ہیں۔ نیپال کی جانب سے بھارت اور چین دونوں سے سفارتی رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھائے بغیر اس اقدام کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔
چھ سال بعد لیپولیکھ روٹ کی بحالی محض مذہبی اقدام نہیں بلکہ اس کے ساتھ تجارتی اور انفراسٹرکچر مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
 یہ پیش رفت نیپال اور بھارت کے تعلقات میں ایک مستقل تنازع کو اجاگر کرتی ہے جہاں نقشوں اور زمینی حقائق میں تضاد برقرار ہے۔
بھارت کی جانب سے یاترا کو خالص مذہبی سرگرمی کے طور پر پیش کرنا دراصل متنازعہ علاقے میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی ایک حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، جو اس کے علاقائی بالادستی کے عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔

Watch Live Public News