ویب ڈیسک: بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں معمولی بات نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جہاں بیوی کی سموسے کی فرمائش پوری نہ کرنے پر شوہر کو بیوی اور اس کے گھر والوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہ انوکھا واقعہ مقامی سطح پر ہلچل مچانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گاؤں کی رہائشی خاتون سنگیتا نے اپنے شوہر شیوم سے سموسے کھانے کی ضد کی۔ تاہم مالی مسائل اور دیگر مصروفیات کے باعث شیوم سموسے نہ لا سکا۔ اس معمولی سی بات پر میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد سنگیتا سخت ناراض ہوگئی۔
اگلے روز سنگیتا نے اپنی ناراضی کو اپنے گھر والوں کے سامنے بیان کیا اور شوہر پر شکایات کے انبار لگا دیے۔ رپورٹ کے مطابق اس پر سنگیتا کے والدین اور ماموں غصے سے بھڑک اٹھے اور شیوم کو گاؤں کی پنچایت میں حاضر ہونے پر مجبور کیا۔
پنچایت میں پیشی کے دوران صورتحال مزید بگڑ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پنچایت کے سامنے ہی سنگیتا کے والدین اور ماموں نے شیوم پر تشدد شروع کر دیا، جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ موقع پر موجود افراد نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی مگر جھگڑا اس وقت تک رکا نہیں جب تک شیوم کو کافی چوٹیں نہ لگ گئیں۔
شیوم کی والدہ نے واقعے کے بعد بہو اور اس کے گھر والوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ زخمی شیوم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ گاؤں کے باسیوں میں حیرت اور افسوس کا باعث بنا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات پر پنچایت میں اس طرح تشدد ہونا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ معاشرتی اقدار کے بھی خلاف ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں گھریلو تنازعات کو حل کرنے کے لیے مقامی پنچایتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں، مگر بعض اوقات یہ پنچایتیں انصاف کے بجائے تنازع کو مزید بھڑکا دیتی ہیں۔