ویب ڈیسک: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹاپے اور پری ڈائیبیٹیز (ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت) میں مبتلا افراد میں جی ایل پی ون (GLP-1) ادویات کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً تین سال کے دوران جی ایل پی ون ادویات استعمال کرنے والے افراد میں میٹفارمن لینے والوں کے مقابلے میں ذیابیطس کا خطرہ کم پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان ادویات کے استعمال سے دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے واقعات نسبتاً کم تھے، جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بھی 41 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا۔
ڈاکٹر وینیسیئس ڈی سوسا بارزون سیرا کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں 104 طبی اداروں کے 2010 سے 2023 تک کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔
محققین کے مطابق سیمیگلوٹائیڈ اور ٹرزیپاٹائیڈ جیسی ادویات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم یہ میٹفارمن کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہیں اور ان کے حصول کے لیے انشورنس کی منظوری بھی مشکل ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج 6 سے 9 نومبر 2026 کو شکاگو میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنٹفک سیشنز میں پیش کیے جائیں گے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے نتائج کو ابتدائی سمجھا جائے۔ تحقیق میں ادویات کے استعمال اور بہتر طبی نتائج کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، تاہم یہ ثابت نہیں ہوا کہ خطرات میں کمی براہِ راست انہی ادویات کی وجہ سے ہوئی۔