ویب ڈیسک: عالمی میڈیا اور امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران، عمان اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے 60 روزہ عبوری معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت نے مجوزہ عبوری انتظام کی اصولی منظوری دے دی ہے، تاہم معاہدے کی سرکاری سطح پر ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔
ایگزیوس کے مطابق مجوزہ 60 روزہ عبوری معاہدے کے تحت پہلے سے پھنسے ہوئے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے سے جبکہ نئے آنے والے جہاز عمان کے سمندری راستے سے گزریں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران جہازوں سے کسی قسم کا ٹول یا ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ 30 روز کے دوران آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ گزرگاہ کو مستقل بنیادوں پر بحری آمدورفت کے لیے بحال کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر، پاکستان، سعودی عرب اور عمان نے اس سفارتی پیش رفت اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات میں صرف ایک یا دو نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند رکھنے کا حتمی انحصار امریکی اقدامات پر ہوگا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اشارہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
تاہم ایرانی میڈیا نے ان اطلاعات پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ آبی گزرگاہ فوری طور پر کھول دی جائے گی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ انتظام میں امریکہ فریق نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا انحصار امریکی پالیسی میں تبدیلی اور مبینہ خلاف ورزیوں کے خاتمے پر ہوگا۔