(ویب ڈیسک) سال 2024-25 کے دوران پی ٹی اے کی جانب سے موبائل ڈیوائسز بلاک کرنے کی تفصیلات سامنے آگئی۔
دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 10 کروڑ موبائل ڈیوائسز بلاک کردی، 8 لاکھ 68 ہزار گمشدہ یا چوری شدہ موبائل فون بلاک کیے گئے، 7 کروڑ 20 لاکھ جعلی یا ریپلیکا موبائل ڈیوائسز نیٹ ورکس سے ہٹائی گئیں۔
دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈپلیکیٹ یا کلون آئی ایم ای آئی والی ڈیوائسز بھی بلاک کیں،2019 سے اب تک موبائل ڈیوائس رجسٹریشن سے حکومت نے 83 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔
پی ٹی اے دستاویز کے مطابق ڈی آئی آر بی ایس کے نفاذ سے موبائل ڈیوائس مینجمنٹ نظام مضبوط ہوا، ڈی آئی آر بی ایس نے جعلی اور غیر معیاری موبائل فونز کی درآمد کو مؤثر طور پر روکا ہے،ڈی آئی آر بی ایس کے باعث موبائل ڈیوائس مارکیٹ کو دستاویزی شکل ملی اور حکومتی آمدن میں اضافہ ہوا۔
ایم ڈی ایم ریگولیشنز 2021 کے تحت پاکستان میں موبائل فون اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کو فروغ ملا۔سال 2025 تک پاکستانی نیٹ ورکس پر استعمال ہونے والے 95 فیصد سے زائد موبائل فون مقامی طور پر تیار ہوئے۔ملک میں استعمال ہونے والے 68 فیصد اسمارٹ فونز مقامی سطح پر تیار کیے گئے۔ پی ٹی اے نے 36 مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جن میں سام سنگ، شیاؤمی، اوپو اور ویوو شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق پاکستان خطے کی موبائل فون ویلیو چین میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈی آئی آر بی ایس کے تسلسل سے ملک میں محفوظ، شفاف اور خود کفیل ڈیجیٹل ایکو سسٹم قائم ہوا۔